Surah

Information

Surah ID #30
Total Verses 60 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #84
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 17, from Madina
Surah 30: Ar-Rum Ayat #41
ظَهَرَ الۡفَسَادُ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ بِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِى النَّاسِ لِيُذِيۡقَهُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ عَمِلُوۡا لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿41﴾
Corruption has appeared throughout the land and sea by [reason of] what the hands of people have earned so He may let them taste part of [the consequence of] what they have done that perhaps they will return [to righteousness].
خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا ۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالٰی چکھا دے ( بہت ) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں ۔

More translations & tafseer

ظهر الفساد في البر و البحر بما كسبت ايدي الناس ليذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون
Corruption has appeared throughout the land and sea by [reason of] what the hands of people have earned so He may let them taste part of [the consequence of] what they have done that perhaps they will return [to righteousness].
Khushki aur tari mein logon ki bad aemaaliyon kay baees fasad phel gaya. Iss liye kay unhen unn kay baaz kertooton ka phal Allah Taalaa chakha dey ( boht ) mumkin hai kay woh baaz aajayen.
لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی ، اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا ۔ ( ٢٠ ) تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزہ انہیں چکھائے ، شاید وہ باز آجائیں ۔
چمکی خرابی خشکی اور تری میں ( ف۹۰ ) ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ انھیں ان کے بعض کوتکوں ( برے کاموں ) کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں ( ف۹۱ )
خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ باز آئیں ۔ 64
بحر و بر میں فساد ان ( گناہوں ) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ ( اﷲ ) انہیں بعض ( برے ) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں ، تاکہ وہ باز آجائیں
سورة الروم حاشیہ نمبر : 64 یہ پھر اس جنگ کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت روم و ایران کے درمیان برپا تھی جس کی آگ نے پورے شرق اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ۔ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے مراد وہ فسق و فجور اور ظلم و جور ہے جو شرک یا دہریت کا عقیدہ اختیار کرنے اور آخرت کو نظر انداز کردینے سے لازما انسانی اخلاق و کردار میں رونما ہوتا ہے ۔ شاید کہ وہ باز آئیں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی آخرت کی سزا سے پہلے اس دنیا میں انسانوں کو ان کے تمام اعمال کا نہیں ، بلکہ بعض اعمال کا برا نتیجہ اس لیے دکھاتا ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھیں اور اپنے تخیلات کی غلطی کو محسوس کر کے اس عقیدہ صالحہ کی طرف رجوع کریں جو انبیاء علیہم السلام ہمیشہ سے انسان کے سامنے پیش کرتے چلے آرہے ہیں ، جس کو اختیار کرنے کے سوا انسانی اعمال کو صحیح بنیاد پر قائم کرنے کی کوئی دوسری صورت نہیں ہے ۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو ، التوبہ ، آیت 126 ۔ الرعد آیت 31 ۔ السجدہ 21 ۔ الطور 47 ۔
زمین کی اصلاح اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مضمر ہے ممکن ہے بر یعنی خشکی سے مراد میدان اور جنگل ہوں اور بحریعنی تری سے مراد شہر اور دیہات ہوں ۔ ورنہ ظاہر ہے کہ بر کہتے ہیں خشکی کو اور بحر کہتے ہیں تری کو خشکی کے فساد سے مراد بارش کا نہ ہونا پیداوار کا نہ ہونا قحط سالیوں کا آنا ۔ تری کے فساد سے مراد بارش کا رک جانا جس سے پانی کے جانور اندھے ہوجاتے ہیں ۔ انسان کا قتل اور کشتیوں کا جبر چھین جھپٹ لینا یہ خشکی تری کا فساد ہے ۔ بحر سے مراد جزیرے اور بر سے مراد شہر اور بستیاں ہیں ۔ لیکن اول قول زیادہ ظاہر ہے اور اسی کی تائید محمد بن اسحاق کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حضور نے ایلہ کے بادشاہ سے صلح کی اور اس کا بحریعنی شہر اسی کے نام کردیا پھلوں کا اناج کا نقصان دراصل انسان کے گناہوں کی وجہ سے ہے اللہ کے نافرمان زمین کے بگاڑنے والے ہیں ۔ آسمان وزمین کی اصلاح اللہ کی عبادت واطاعت سے ہے ۔ ابو داؤد میں حدیث ہے کہ زمین پر ایک حد کا قائم ہونا زمین والوں کے حق میں چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے ۔ یہ اس لیے کہ حد قائم ہونے سے مجرم گناہوں سے باز رہیں گے ۔ اور جب گناہ نہ ہونگے تو آسمانی اور زمینی برکتیں لوگوں کو حاصل ہونگی ۔ چنانچہ آخر زمانے میں جب حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور اس پاک شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے مثلا خنزیر کا قتل صلیب کی شکست جزئیے کا ترک یعنی اسلام کی قبولیت یا جنگ پھر جب آپ کے زمانے میں دجال اور اس کے مرید ہلاک ہوجائیں گے یاجوج ماجوج تباہ ہوجائیں گے تو زمین سے کہا جائیے گا کہ اپنی برکتیں لوٹادے اس دن ایک انار لوگوں کی ایک بڑی جماعت کو کافی ہوگا اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے چھلکے تلے یہ سب لوگ سایہ حاصل کرلیں ۔ ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے کو کفایت کرے گا ۔ یہ ساری برکتیں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے جاری کرنے کی وجہ سے ہونگی جیسے جیسے عدل وانصاف مطابق شرع شریف بڑھے گا ویسے ویسے خیر وبرکت بڑھتی چلی جائے گی ۔ اس کے برخلاف فاجر شخص کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر بندے شہر درخت اور جانور سب راحت پالیتے ہیں ۔ مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ زیاد کے زمانے میں ایک تھیلی پائی گئی جس میں کجھور کی بڑی گھٹلی جیسے گہیوں کے دانے تھے اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ اس زمانے میں اگتے تھے جس میں عدل وانصاف کو کام میں لایا جاتا تھا ۔ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فساد سے شرک ہے لیکن یہ قول تامل طلب ہے ۔ پھر فرماتا ہے کہ مال اور پیداوار کی اور پھر اناج کی کمی بطور آزمائش کے اور بطور ان کے بعض اعمال کے بدلے کے ہے ۔ جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ١٦٨؁ ) 7- الاعراف:168 ) ہم نے انہیں بھلائیوں برائیوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ لوٹ جائیں ۔ تم زمین میں چل پھر کر آپ ہی دیکھ لو کہ تم سے پہلے جو مشرک تھے اس کے نتیجے کیا ہوئے؟ رسولوں کی نہ ماننے اللہ کیساتھ کفر کرنے کا کیا وبال ان پر آیا ؟ یہ دیکھو اور عبرت حاصل کرو ۔