Surah

Information

Surah ID #30
Total Verses 60 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #84
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 17, from Madina
Surah 30: Ar-Rum Ayat #48
اَللّٰهُ الَّذِىۡ يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ فَتُثِيۡرُ سَحَابًا فَيَبۡسُطُهٗ فِى السَّمَآءِ كَيۡفَ يَشَآءُ وَيَجۡعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلٰلِهٖ‌ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَۚ‏ ﴿48﴾
It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them. And when He causes it to fall upon whom He wills of His servants, immediately they rejoice
اللہ تعالٰی ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالٰی اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر وہ پانی برساتا ہے تو وہ خوش خوش ہو جاتے ہیں ۔

More translations & tafseer

الله الذي يرسل الريح فتثير سحابا فيبسطه في السماء كيف يشاء و يجعله كسفا فترى الودق يخرج من خلله فاذا اصاب به من يشاء من عباده اذا هم يستبشرون
It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them. And when He causes it to fall upon whom He wills of His servants, immediately they rejoice
Allah Taalaa hawayen chalata hai woh abar ko uthati hain phir Allah Taalaa apni mansha kay mutabiq ussay aasman mein phela deta hai aur uss kay tukray tukray ker deta hai phir aap dekhtay hain kay uss kay andar say qatray nikaltay hain aur jinhen Allah chahata hai unn bandon per qoh pani barsata hai to woh khush khush ho jatay hain.
اللہ ہی وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ، چنانچہ وہ بال کو اٹھاتی ہیں ، پھر وہ اس ( بادل ) کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے ، اور اسے کئی تہوں ( والی گھٹا ) میں تبدیل کردیتا ہے ۔ تب تم دیکھتے ہو کہ اس کے د رمیان سے بارش برس رہی ہے ۔ چنانچہ جب وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے وہ بارش پہنچاتا ہے تو وہ اچانک خوشی منانے لگتے ہیں ۔
اللہ ہے کہ بھیجتا ہے ہوائیں کہ ابھارتی ہیں بادل پھر اسے پھیلادیتا ہے آسمان میں جیسا چاہے ( ف۱۰۵ ) اور اسے پارہ پارہ کرتا ہے ( ف۱۰٦ ) تو تو دیکھے کہ اس کے یبچ میں مینھ نکل رہا ہے پھر جب اسے پہنچاتا ہے ( ف۱۰۷ ) اپنے بندوں میں جس کی طرف چاہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں ،
اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں ۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں
اﷲ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر وہ اس ( بادل ) کو فضائے آسمانی میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے پھر اسے ( متفرق ) ٹکڑے ( کر کے تہ بہ تہ ) کر دیتا ہے ، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے ، پھر جب اس ( بارش ) کو اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ فوراً خوش ہو جاتے ہیں
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو ۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلادیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے ۔ اور کبھی یہ بھی دیکھاہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں ۔ اسی مضمون کو آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57؀ ) 7- الاعراف:57 ) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ بتہہ کردیتا ہے ۔ وہ پانی سے سیاہ ہوجاتے ہیں ۔ زمین کے قریب ہوجاتے ہیں ۔ پھر بارش ان بادلوں کے درمیان سے برسنے لگتی ہے جہاں برسی وہیں کے لوگوں کی باچھیں کھل گئیں ۔ پھر فرماتا ہے یہی لوگ بارش سے ناامید ہوچکے تھے اور پوری ناامیدی کے وقت بلکہ ناامیدی کے بعد ان پر بارشیں برسیں اور جل تھل ہوگئے ۔ دودفعہ من قبل کا لفظ لانا تاکید کے لئے ہے ۔ ہ کی ضمیر کا مرجع انزال ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تاسیسی دلالت ہو ۔ یعنی بارش ہونے سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے یہ اس کے محتاج تھے اور وہ حاجت پوری ہو اس سے پہلے وقت کے ختم ہوجانے کے قریب بارش نہ ہونے کی وجہ سے یہ مایوس ہوچکے تھے ۔ پھر اس ناامیدی کے بعد دفعۃ ابر اٹھتا ہے اور برس جاتا ہے اور ریل پیل کردیتا ہے ۔ اور ان کی خشک زمین تر ہوجاتی ہے قحط سالی ترسالی سے بدل جاتی ہے ۔ یا تو زمین صاف چٹیل میدان تھی یا ہر طرف ہریاول دکھائی دینے لگتی ہے ۔ دیکھ لو کہ پروردگار عالم بارش سے کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے یاد رکھو جس رب کی یہ قدرت تم دیکھ رہے وہ ایک دن مردوں کو ان قبروں سے بھی نکالنے والا ہے حالانکہ ان کے جسم گل سڑگئے ہونگے ۔ سمجھ لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ پھر فرماتا ہے اگر ہم باد تند چلائیں اگر آندھیاں آجائیں اور ان کی لہلاتی ہوئی کھیتیاں پژمردہ ہوجائیں تو وہ پھر سے کفر کرنے لگ جاتے ہیں چنانچہ سورۃ واقعہ میں بھی یہی بیان ہوا ہے ۔ آیت ( اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ 63۝ۭ ) 56- الواقعة:63 ) سے ( بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ 67؀ ) 56- الواقعة:67 ) تک حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہوائیں آٹھ قسم کی ہیں چار رحمت کی چار زحمت کی ۔ ناشرات مبشرات مرسلات اور ذاریات تو رحمت کی ہیں ۔ اور عقیم صرصر عاصف اور قاصف عذاب کی ۔ ان میں پہلی دو خشکیوں کی ہیں اور آخری دو تری کی ۔ حضور فرماتے ہیں ہوائیں دوسری سے مسخر ہیں یعنی دوسری زمین سے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی ہلاکت کا ارادہ کیا تو ہواؤں کے داروغہ کو یہ حکم دیا اس نے دریافت کیا کہ جناب باری کیا ہواؤں کے خزانے میں اتنا سوراخ کردوں جتنا بیل کا نتھا ہوتا ہے؟ تو فرمان اللہ ہوا کہ نہیں نہیں اگر ایسا ہوا تو کل زمین اور زمین کی پوری چیزیں الٹ پلٹ ہوجائیں گی ۔ اتنا نہیں بلکہ اتنا روزن کر جتنا انگوٹھی میں نگینہ ہوتا ہے ۔ اب صرف اتنے سوراخ سے وہ ہوا چلی جو جہاں پہنچی وہاں بھس اڑادیا ۔ جس چیز پر سے گذری اسے بےنشان کردیا ۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوع ہونا مکروہ ہے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ یہ خود حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے ۔