Surah

Information

Surah ID #33
Total Verses 73 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #90
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 33: Al-Ahzab Ayat #4
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِىۡ جَوۡفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـئِْ تُظٰهِرُوۡنَ مِنۡهُنَّ اُمَّهٰتِكُمۡ ‌ۚ وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ اَبۡنَآءَكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكُمۡ قَوۡلُـكُمۡ بِاَ فۡوَاهِكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِى السَّبِيۡلَ‏ ﴿4﴾
Allah has not made for a man two hearts in his interior. And He has not made your wives whom you declare unlawful your mothers. And he has not made your adopted sons your [true] sons. That is [merely] your saying by your mouths, but Allah says the truth, and He guides to the [right] way.
کسی آدمی کے سینے میں اللہ تعالٰی نے دو دل نہیں رکھے اور اپنی جن بیویوں کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو انہیں اللہ نے تمہاری ( سچ مچ کی ) مائیں نہیں بنایا ، اور نہ تمہارے لے پالک لڑکوں کو ( واقعی ) تمہارے بیٹے بنایا ہے یہ تو تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں اللہ تعالٰی حق بات فرماتا ہے اور وہ ( سیدھی ) راہ سجھاتا ہے ۔

More translations & tafseer

ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه و ما جعل ازواجكم الي تظهرون منهن امهتكم و ما جعل ادعياءكم ابناءكم ذلكم قولكم بافواهكم و الله يقول الحق و هو يهدي السبيل
Allah has not made for a man two hearts in his interior. And He has not made your wives whom you declare unlawful your mothers. And he has not made your adopted sons your [true] sons. That is [merely] your saying by your mouths, but Allah says the truth, and He guides to the [right] way.
Kissi aadmi kay seenay mein Allah Taalaa ney do dil nahi rakhay aur apni jin biwiyon ko tum maa keh bethtay ho unhen Allah ney tumhari ( sach much ki ) maayen nahi banaya aur na tumharay ley paalak larkon ko ( waqaee ) tumharay betay banaya hai yeh to tumharay apnay mun ki baaten hain Allah Taalaa haq baat farmata hai aur woh ( seedhi ) raah sujhata hai.
اللہ نے کسی بھی شخص کے سینے میں دو دل پیدا نہیں کیے ( ٢ ) اور تم اپنی جن بیویوں کو ماں کی پشت سے تشبیہ دیتے ہو ان کو تمہاری ماں نہیں بنایا ( ٣ ) اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا قرار دیا ہے ۔ یہ تو باتیں ہی باتیں ہیں جو تم اپنے منہ سے کہہ دیتے ہو ، اور اللہ وہی بات کہتا ہے جو حق ہو ، اور وہی صحیح راستہ بتلاتا ہے ۔
اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے ( ف٤ ) اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا ( ف۵ ) اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا ( ف٦ ) یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے ( ف۷ ) اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے ( ف۸ )
اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے ہیں 5 نہ اس نے تم لوگوں کی ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے 6 ، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے 7 یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو ، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے ، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
اللہ نے کسی آدمی کے لئے اس کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے ، اور اس نے تمہاری بیویوں کو جنہیں تم ظِہار کرتے ہوئے ماں کہہ دیتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنایا ، اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے ( حقیقی ) بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی اپنی باتیں ہیں ، اور اللہ حق بات فرماتا ہے ، اور وہی ( سیدھا ) راستہ دکھاتا ہے
سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :5 یعنی ایک آدمی بیک وقت مومن اور منافق ، سچا اور جھوٹا ، بدکار اور نیکو کار نہیں ہو سکتا ۔ اس کے سینے میں دو دل نہیں ہیں کہ ایک دل میں اخلاص ہو اور دوسرے میں خدا سے بے خوفی ۔ لہٰذا ایک وقت میں آدمی کی ایک ہی حیثیت ہو سکتی ہے ۔ یا تو وہ مومن ہو گا یا منافق ۔ یا تو وہ کافر ہو گا یا مسلم ۔ اب اگر تم کسی مومن کو منافق کہہ دو یا منافق تو اس سے حقیقت نفس الامری نہ بدل جائے گی ۔ اس شخص کی اصل حیثیت لازماً ایک ہی رہے گی ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :6 ظِہار عرب کی ایک خاص اصطلاح ہے ۔ قدیم زمانے میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑتے ہوئے کبھی یہ کہہ بیٹھتے تھے کہ تیری پیٹھ میری لئے میری ماں کی پیٹھ جیسی ہے ۔ اور یہ بات جب کسی کے منہ سے نکل جاتی تھی تو یہ سمجھتا جاتا تھا کہ اب یہ عورت اس پر حرام ہو گئی ہے کیونکہ وہ اسے ماں سے تشبیہ دے چکا ہے ۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیوی کو ماں کہنے یا ماں کے ساتھ تشبیہ دے دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی ۔ ماں تو وہی ہے جس نے آدمی کو جنا ہے ۔ محض زبان سے ماں کہہ دینا حقیقت کو نہیں بدل دیتا کہ جو بیوی تھی وہ تمہارے کہنے سے ماں بن جائے ۔ ( یہاں ظہار کے متعلق شریعت کا قانون بیان کرنا مقصود نہیں ہے ۔ اس کا قانون سورہ مجادلہ ۔ آیات ۲ ۔ ٤ میں بیان کیا گیا ہے ) ۔ سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :7 یہ اصل مقصود کلام ہے ۔ اوپر کے دونوں فقرے اسی تیسری بات کو ذہن نشین کرنے کے لئے بطور دلیل ارشاد ہوئے تھے ۔
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلا ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے ۔ بیان فرمایا کہ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے ۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بیوی کو تم ماں کہہ دو تو وہ واقعی ماں نہیں ہوجاتی ۔ ٹھیک اسی طرح دوسرے کی اولاد کو اپنا بیٹا بنالینے سے وہ سچ مچ بیٹا ہی نہیں ہوجاتا ۔ اپنی بیوی سے اگر کسی نے بحالت غضب وغصہ کہد دیا کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ تو اس کہنے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتیں مائیں تو وہ ہیں جن کے بطن سے یہ پیدا ہوئے ہیں ۔ ان دونوں باتوں کے بیان کے بعد اصل مقصود کو بیان فرمایا کہ تمہارے لے پالک لڑکے بھی درحقیقت تمہارے لڑکے نہیں ۔ یہ آیت حضرت زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے جو حضور کے آزاد کردہ تھے انہیں حضور نے نبوت سے پہلے اپنا متبنی بنارکھا تھا ۔ انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا ۔ اس آیت سے اس نسبت اور اس الحاق کا توڑ دینا منظور ہے ۔ جیسے کہ اسی سورت کے اثنا میں ہے آیت ( مَا كَانَ مُحَـمَّـدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا 40؀ۧ ) 33- الأحزاب:40 ) تم میں سے کسی مرد کے باپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ۔ یہاں فرمایا یہ تو صرف تمہاری ایک زبانی بات ہے جو تم کسی کے لڑکے کو کسی کا لڑکا کہو اس سے حقیقت بدل نہیں سکتی ۔ واقعی میں اس کا باپ وہ ہے جس کی پیٹھ سے یہ نکلا ۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک لڑکے کے دو باپ ہوں جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک سینے میں دو دل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ حق فرمانے والا اور سیدھی راہ دکھانے والا ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک قریشی کے بارے میں اتری ہے جس نے مشہور کررکھا تھا کہ اس کے دو دل ہیں اور دونوں عقل وفہم سے پر ہیں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تردید کردی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے آپ کو کچھ خطرہ گذرا اس پر جو منافق نماز میں شامل تھے وہ کہنے لگے دیکھو اس کے دو دل ہیں ایک تمہارے ساتھ ایک ان کے ساتھ ۔ اس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ۔ زہری فرماتے ہیں یہ تو صرف بطور مثال کے فرمایا گیا ہے یعنی جس طرح کسی شخص کے دو دل نہیں ہوتے اسی طرح کسی بیٹے کے دو باپ نہیں ہوسکتے ۔ اسی کے مطابق ہم نے بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۔ پہلے تو رخصت تھی کہ لے پالک لڑکے کو پالنے والے کی طرف نسبت کرکے اس کا بیٹا کہہ کر پکارا جائے لیکن اب اسلام نے اس کو منسوخ کردیا ہے اور فرمادیا ہے کہ ان کے جو اپنے حقیقی باپ ہیں ان ہی کی طرف منسوب کرکے پکارو ۔ عدل نیکی انصاف اور سچائی یہی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس آیت کے اترنے سے پہلے ہم حضرت زید کو زید بن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاکرتے تھے لیکن اس کے نازل ہونے کے بعد ہم نے یہ کہنا چھوڑ دیا ۔ بلکہ پہلے تو ایسے لے پالک کے وہ تمام حقوق ہوتے تھے جو سگی اور صلبی اولاد کے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ اس آیت کے اترنے کے بعد حضرت سہلہ بنت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہا حاضر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر عرض کرتی ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنا رکھا تھا اب قرآن نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا ۔ میں اس سے اب تک پردہ نہیں کرتی وہ آجاتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ میرے خاوند حضرت حذیفہ ان کے اس طرح آنے سے کچھ بیزار ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر کیا ہے جاؤ سالم کو اپنا دودھ پلا اس پر حرام ہوجاؤگی ۔ الغرض یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اب صاف لفظوں میں ایسے لڑکوں کی بیویوں کی بھی مداخلت انہیں لڑکا بنانے والے کے لئے بیان فرمادی ۔ اور جب حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ حضرت زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا نکاح ان سے کرلیا اور مسلمان اس ایک مشکل سے بھی چھوٹ گئے فالحمد للہ اسی کا لحاظ رکھتے ہوئے ۔ جہاں حرام عورتوں کو ذکر کیا وہاں فرمایا آیت ( وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ 23؀ۙ ) 4- النسآء:23 ) یعنی تمہاری اپنی صلب سے جو لڑکے ہوں ان کی بیویاں تم پر حرام ہیں ۔ ہاں رضاعی لڑکا نسبی اور صلبی لڑکے کے حکم میں ہے ۔ جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوجاتے ہیں ۔ یہ بھی خیال رہے کہ پیار سے کسی کو بیٹا کہدینا یہ اور چیز ہے یہ ممنوع نہیں مسند احمد وغیرہ میں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں ہم سب خاندان عبدالمطلب کے چھوٹے بچوں کو مزدلفہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو ہی جمرات کی طرف رخصت کردیا اور ہماری رانیں تھپکتے ہوئے حضور نے فرمایا بیٹو سورج نکلنے سے پہلے جمرات پر کنکریاں نہ مارنا ۔ یہ واقعہ سنہ ١٠ ہجری ماہ ذی الحجہ کاہے اور اس کی دلالت ظاہر ہے ۔ حضرت زید بن حارثہ جن کے بارے میں یہ حکم اترا یہ سنہ ٨ ہجری میں جنگ موتہ میں شہید ہوئے ۔ صحیح مسلم شریف میں مروی ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بیٹا کہہ کر بلایا ۔ اسے بیان فرما کر کہ لے پالک لڑکوں کو ان کے باپ کی طرف منسوب کرکے پکارا کرو پالنے والوں کی طرف نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ اگر تمہیں انکے باپوں کا علم نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور اسلامی دوست ہیں ۔ حضور جب عمرۃ القضا والے سال مکہ شریف سے واپس لوٹے تو حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی چچاچچا کہتی ہوئی آپ کے پیچھے دوڑیں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں لے کر حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دے دیا اور فرمایا یہ تمہاری چچازاد بہن ہیں انہیں اچھی طرح رکھو ۔ حضرت زید اور حضرت جعفر فرمانے لگے اس بچی کے حقدار ہم ہیں ہم انہیں پالیں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نہیں یہ میرے ہاں رہیں گی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو یہ دلیل دی کہ میرے چچا کی لڑکی ہیں ۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بھائی کی لڑکی ہے ۔ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے میرے چچا کی لڑکی ہیں ۔ اور ان کی چچی میرے گھر میں ہیں یعنی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ صاحبزادی تو اپنی خالہ کے پاس رہیں کیونکہ خالہ ماں کے قائم مقام ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ سے فرمایا تو میرا ہے اور میں تیرا ہوں ۔ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو صورت سیرت میں میرے مشابہ ہے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تو میرا بھائی ہے اور ہمارا مولیٰ ہے اس حدیث میں بہت سے احکام ہیں ۔ سب سے بہتر تو یہ ہے کہ حضور نے حکم حق سنا کر اور دعویداروں کو بھی ناراض نہیں ہونے دیا ۔ اور آپ نے اسی آیت پر عمل کرتے ہوئے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو ۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اسی آیت کے ماتحت میں تمہارا بھائی ہوں ۔ ابی فرماتے ہیں واللہ اگر یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کے والد کوئی ایسے ویسے ہی تھے تو بھی یہ ان کی طرف منسوب ہوتے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنی نسبت اپنے باپ کی طرف سے دوسرے کی طرف کرے اس نے کفر کیا ۔ اس سے سخت وعید پائی جاتی ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ صحیح نسب سے اپنے آپ کو ہٹانا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے ۔ پھر فرماتا ہے جب تم نے اپنے طور پر جتنی طاقت تم میں ہے تحقیق کرکے کسی کو کسی کی طرف نسبت کیا اور فی الحقیقت وہ نسبت غلط ہے تو اس خطا پر تمہاری پکڑ نہیں ۔ چنانچہ خود پروردگار نے ہمیں ایسی دعا تعلیم دی کہ ہم اس کی جناب میں ہیں آیت ( رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ٢٨٦؀ۧ ) 2- البقرة:286 ) اے اللہ ہماری بھول چوک اور غلطی پر ہمیں نہ پکڑ ۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی جناب باری عز اسمہ نے فرمایا میں نے یہ دعاقبول فرمائی ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے جب حاکم اپنی کوشش میں کامیاب ہوجائے اپنے اجتہاد میں صحت کو پہنچ جائے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے اور اگر خطا ہوجائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کو ان کی خطائیں بھول چوک اور جو کام ان سے زبردستی کرائے جائیں ان سے درگذر فرمالیا ہے ۔ یہاں بھی یہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ہاں جو کام تم قصد قلب سے عمدا کرو وہ بیشک قابل گرفت ہیں ۔ قسموں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے اوپر جو حدیث بیان ہوئی کہ نسب بدلنے والا کفر کا مرتکب ہے وہاں بھی یہ لفظ ہیں کہ باوجود جاننے کے ۔ آیت قرآن جو اب تلاوتا منسوخ ہے اس میں تھا آیت ( فان کفرابکم ان ترغبوا عن ابائکم ) یعنی تمہارا اپنے باپ کی طرف نسبت ہٹانا کفر ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا آپ کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اس میں رجم کی بھی آیت تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی رجم کیا ( یعنی شادی شدہ زانیوں کو سنگسار کیا ) اور ہم نے بھی آپ کے بعد رجم کیا ۔ ہم نے قرآن میں یہ آیت بھی پڑھی ہے کہ اپنے باپوں سے اپنا سلسلہ نسب نہ ہٹاؤ یہ کفر ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے تم میری تعریفوں میں اس طرح بڑھا چڑھا نہ دینا جیسے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہوا ۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں تو تم مجھے اللہ کا بندہ اور رسول اللہ کہنا ۔ ایک روایت میں صرف ابن مریم ہے ۔ اور حدیث میں ہے تین خصلتیں لوگوں میں ہیں جو کفر ہیں ۔ نسب میں طعنہ زنی ، میت پر نوحہ ، ستاروں سے باراں طلبی ۔