Surah

Information

Surah # 33 | Verses: 73 | Ruku: 9 | Sajdah: 0 | Chronological # 90 | Classification: Madinan
Revelation location & period: Madina phase (622 - 632 AD)
وَاَنۡزَلَ الَّذِيۡنَ ظَاهَرُوۡهُمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مِنۡ صَيَاصِيۡهِمۡ وَقَذَفَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الرُّعۡبَ فَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَتَاۡسِرُوۡنَ فَرِيۡقًا ۚ‏ ﴿26﴾
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں ( بھی ) اللہ تعالٰی نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں ( بھی ) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروہ کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروہ کو قیدی بنا رہے ہو ۔
و انزل الذين ظاهروهم من اهل الكتب من صياصيهم و قذف في قلوبهم الرعب فريقا تقتلون و تاسرون فريقا
And He brought down those who supported them among the People of the Scripture from their fortresses and cast terror into their hearts [so that] a party you killed, and you took captive a party.
Aur jin ehal-e-kitab ney unn say saaz baaz kerli thi unhen ( bhi ) Allah Taalaa ney unn qilon say nikal diya aur unn kay dilo mein ( bhi ) rob bhar diya kay tum unn kay aik girho ko qatal ker rahey ho aur aik giroh ko qaidi bana rahey ho.
اور جن اہل کتاب نے ان ( دشمنوں ) کی مدد کی تھی ، انہیں اللہ ان کے قلعوں سے نیچے اتار لایا ( ٢١ ) اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ ( اے مسلمانو ! ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے تھے ، اور کچھ کو قیدی بنا رہے تھے ۔
اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی ( ف٦۷ ) انھیں ان کے قلعوں سے اتارا ( ف٦۸ ) اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو ( ف٦۹ ) اور ایک گروہ کو قید ( ف۷۰ )
پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا 40 ، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے ایسا رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ۔ ع3
اور ( بنو قُرَیظہ کے ) جن اہلِ کتاب نے ان ( کافروں ) کی مدد کی تھی اﷲ نے انہیں ( بھی ) ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں ( اسلام کا ) رعب ڈال دیا ، تم ( ان میں سے ) ایک گروہ کو ( ان کے جنگی جرائم کی پاداش میں ) قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو جنگی قیدی بناتے ہو
سورة الْاَحْزَاب حاشیہ نمبر :40 یعنی یہود بنی قریظہ ۔
کفار نے عین موقعہ پر دھوکہ دیا ۔ اتنا ہم پہلے لکھ چکے ہیں جب مشرکین ویہود کے لشکر مدینے پر آئے اور انہوں نے گھیرا ڈالا تو بنو قریظہ کے یہودی جو مدینے میں تھے اور جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد وپیمان ہوچکا تھا انہوں نے بھی عین موقعہ پر بیوفائی کی اور عہد توڑ کر آنکھیں دکھانے لگے ان کا سردار کعب بن اسد باتوں میں آگیا اور حی بن اخطب خبیث نے اسے بدعہدی پر آمادہ کردیا پہلے تو یہ نہ مانا اور اپنے عہد پر قائم رہا حی نے کہا کہ دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں ۔ قریش اور انکے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں ۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کرلیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے ۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے ۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا ۔ آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آجاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہوگا ۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہوگا ۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور صحابہ کو سخت صدمہ ہوا اور بہت ہی بھاری پڑا پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے غلاموں کی مدد کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحاب کے مظفر ومنصور مدینے شریف کو واپس آئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہتھیار کھول دئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہتھیار اتاکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں گرد وغبار سے پاک صاف ہونے کے لئے غسل کرنے کو بیٹھے ہی تھے جو حضرت جبرائیل ظاہر ہوئے آپ کے سر پر ریشمی عمامہ تھا خچر پر سوار تھے جس پر ریشمی گدی تھی فرمانے لگے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے کمر کھول لی ؟ آپ نے فرمایا ہاں حضرت جبرائیل نے فرمایا لیکن فرشتوں نے اب تک اپنے ہتھیار الگ نہیں کئے ۔ میں کافروں کے تعاقب سے ابھی ابھی آرہا ہوں سنئے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بنو قریظہ کی طرف چلئے اور ان کی پوری گوشمالی کیجئے ۔ مجھے بھی اللہ کا حکم مل چکا ہے کہ میں انہیں تھرادوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے تیار ہو کر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کو حکم دیا اور فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک عصر کی نماز بنو قریظہ میں ہی پڑھے ۔ ظہر کے بعد یہ حکم ملا تھا بنو قریظہ کا قلعہ یہاں سے کئی میل پر تھا ۔ نماز کا وقت صحابہ کو راستہ میں آگیا ۔ تو بعض نے تو نماز ادا کرلی اور کہا کہ حضور کا فرمان اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم تیز چلیں ۔ اور بعض نے کہا ہم تو وہاں پہنچے بغیر نماز نہیں پڑھیں گے جب آپ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے دونوں میں سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی ۔ آپ نے مدینہ پر حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنایا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ لشکر کا جھنڈادیا اور آپ بھی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پیچھے پیچھے بنو قریظہ کی طرف چلے اور جاکر ان کے قلعہ کو گھیر لیا ۔ یہ محاصرہ پچیس روز تک رہا ۔ جب یہودیوں کے ناک میں دم آگیا اور تنگ حال ہوگئے تو انہوں نے اپنا حاکم حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے ۔ بنو قریظہ میں اور قبیلہ اوس میں زمانہ جاہلیت میں اتفاق ویگانگت تھی ایک دوسرے کے حلیف تھے اس لئے ان یہودیوں کو یہ خیال رہا کہ حضرت سعد ہمارا لحاظ اور پاس کریں گے جیسے کہ عبداللہ بن ابی سلول نے بنو قینقاع کو چھڑوایا تھا ادھر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حالت تھی کہ جنگ خندق میں انہیں اکحل کی رگ میں ایک تیر لگا تھا جس سے خون جاری تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زخم پر داغ لگوایا تھا اور مسجد کے خیمے میں ہی انہیں رکھا تھا کہ پاس ہی پاس عیادت اور بیمار پر سی کرلیا کریں ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو دعائیں کیں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ اے پروردگار اگر اب بھی کوئی ایسی لڑائی باقی ہے جس میں کفار قریش تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ آئیں تو تو مجھے زندہ رکھ کہ میں اس میں شرکت کرسکوں اور اگر تو نے کوئی ایک لڑائی بھی ایسی باقی نہیں رکھی تو خیر میرا زخم خوب بہاتا رہے لیکن اے میرے رب جب تک میں بنو قریظہ قبیلے کی سرکشی کی سزا سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی نہ کرلوں تو میری موت کو موخر فرمانا ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مستجاب الدعوات کی دعا کی قبولیت کی شان دیکھئے کہ آپ دعا کرتے ہیں ادھر یہودان بنو قریظہ آپ کے فیصلے پر اظہار رضامندی کرکے قلعے کو مسلمانوں کے سپرد کرتے ہیں ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدمی بھیج کر آپ کو مدینہ سے بلواتے ہیں کہ آپ آکر ان کے بارے میں اپنا فیصلہ سنادیں ۔ یہ گدھے پر سوار کرالئے گیے اور سارا قبیلہ ان سے لپٹ گیا کہ دیکھئے حضرت خیال رکھئے گا بنو قریظہ آپ کے آدمی ہیں انہوں نے آپ پر بھروسہ کیا ہے وہ آپ کے حلیف ہیں آپ کے قوم کے دکھ کے ساتھی ہیں ۔ آپ ان پر رحم فرمائیے گا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیے گا ۔ دیکھئے اس وقت ان کا کوئی نہیں وہ آپ کے بس میں ہیں وغیرہ لیکن حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ محض خاموش تھے کوئی جواب نہیں دیتے تھے ۔ ان لوگوں نے مجبور کیا کہ جواب دیں پیچھا ہی نہ چھوڑا ۔ آخر آپ نے فرمایا وقت آگیا ہے کہ سعد رضی اللہ اس بات کا ثبوت دے کہ اسے اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ۔ یہ سنتے ہی ان لوگوں کے تو دل ڈوب گئے اور سمجھ لیا کہ بنو قریظہ کی خیر نہیں ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سواری اس خیمے کے قریب پہنچ گئی جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تو آپ نے فرمایا لوگو اپنے سردار کے استقبال کے لئے اٹھو چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کو عزت واکرام وقعت واحترام سے سواری سے اتارا یہ اس لئے تھا کہ اس وقت آپ حاکم کی حیثیت میں تھے ان کے فیصلے پورے ناطق ونافذ سمجھے جائیں ۔ آپ کے بیٹھتے ہی حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر رضامند ہو کر قلعے سے نکل آئیں ہیں اب آپ ان کے بارے میں جو چاہیں حکم دیجئے ۔ آپ نے کہا جو میں ان پر حکم کروں وہ پورا ہوگا ؟ حضور نے فرمایا ہاں کیوں نہیں؟ کہا اور اس خیمے والوں پر بھی اس کی تعمیل ضروری ہوگی؟ آپ نے فرمایا یقینا پوچھا اور اس طرف والوں پر بھی ؟ اور اشارہ اس طرف کیا جس طرف خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ لیکن آپ کی طرف نہیں دیکھا آپ کی بزرگی اور عزت وعظمت کی وجہ سے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس طرف والوں پر بھی ۔ آپ نے فرمایا اب میرا فیصلہ سنئے میں کہتا ہوں بنو قریظہ میں جتنے لوگ لڑنے والے ہیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کی اولاد کو قید کرلیا جائے ان کے مال قبضے میں لائے جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ تم نے ان کے بارے میں وہی حکم کیا جو اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا تم نے سچے مالک اللہ تعالیٰ کا جو حکم تھا وہی سنایا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے خندقیں کھائی کھدوا کر انہیں بندھا ہوا بلوا کر ان کی گردنیں ماری گئیں ۔ یہ گنتی میں سات آٹھ سو تھے ان کی عورتیں نابالغ بچے اور مال لے لئے گئے ۔ ہم نے یہ کل واقعات اپنی کتاب السیر میں تفصیل سے لکھ دئیے ہیں ۔ والحمد للہ ۔ پس فرماتا ہے کہ جن اہل کتاب یعنی یہودیوں نے کافروں کے لشکروں کی ہمت افزائی کی تھی اور ان کا ساتھ دیا تھا ان سے بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعے خالی کرا دئیے ۔ اس قوم قریظہ کے بڑے سردار جن سے ان کی نسل جاری ہوئی تھی اگلے زمانے میں آکر حجاز میں اسی طمع میں بسے تھے کہ نبی آخر الزمان کی پیش گوئی ہماری کتابوں میں ہے وہ چونکہ یہیں ہونے والے ہیں تو ہم سب پہلے آپ کی اتباع کی سعادت سے مسعود ہونگے ۔ لیکن ان ناحلقوں نے جب اللہ کی وہ نبی آئے ان کی تکذیب کی جس کی وجہ سے اللہ کی لعنت ان پر نازل ہوئی ۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اسی معنی کے لحاظ سے سینگوں کو بھی صیاصی کہتے ہیں اس لئے کہ جانور کے سارے جسم کے اوپر اور سب سے بلند یہی ہوتے ہیں ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا انہوں نے ہی مشرکین کو بھڑکا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرائی تھی ۔ عالم جاہل برابر نہیں ہوتے ۔ یہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جڑوں سے اکھیڑ دینا چاہا تھا لیکن معاملہ برعکس ہوگیا پانسہ پلٹ گیا قوت کمزوری سے اور مراد نامرادی سے بدل گئی ۔ نقشہ بگڑ گیا حمایتی بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہ بےدست وپا رہ گئے ۔ عزت کی خواہش نے ذلت دکھائی مسلمانوں کے برباد کرنے اور پیس ڈالنے کی خواہش نے اپنے تئیں پسوا دیا ۔ اور ابھی آخرت کی محرومی باقی ہے ۔ کچھ قتل کردئیے گئے باقی قیدی کر دیئے گئے ۔ عطیہ فرظی کا بیان ہے کہ جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو میرے بارے میں حضور کو کچھ تردد ہوا ۔ فرمایا اسے الگ لے جاؤ دیکھو اگر اس کے ناف کے نیچے بال ہوں تو قتل کردو ورنہ قیدیوں میں بٹھادو دیکھا تو میں بچہ ہی تھا زندہ چھوڑ دیا گیا ۔ ان کی زمین گھر ان کے مال کے مالک مسلمان بن گئے بلکہ اس زمین کے بھی جو اب تک پڑی تھی اور جہاں مسلمان کے نشان قدم بھی نہ پڑے تھے یعنی خیبر کی زمین یا مکہ شریف کی زمین ۔ یا فارس یا روم کی زمین اور ممکن ہے کہ یہ کل خطے مراد ہوں اللہ بڑی قدرتوں والا ہے ۔ مسند احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خندق والے دن میں لشکر کا کچھ حال معلوم کرنے نکلی ۔ مجھے اپنے پیچھے سے کسی کے بہت تیز آنے کی آہٹ اور اس کے ہتھیاروں کی جھنکار سنائی دی میں راستے سے ہٹ کر ایک جگہ بیٹھ گئی دیکھا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کی طرف جا رہے ہیں اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حارث بن اوس تھے جن کے ہاتھ میں ان کی ڈھال تھی ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوہے کی زرہ پہنے ہوئے تھے لیکن بڑے لانبے چوڑے تھے زرہ پورے بدن پر نہیں آئی تھی ہاتھ کھلے تھے اشعار رجز پڑھتے ہوئے جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے میں یہاں سے اور آگے بڑھی اور ایک باغیچے میں چلی گئی وہاں کچھ مسلمان موجود تھے جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے اور ایک اور صاحب جو خود اوڑھے ہوئے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے دیکھ لیا پس پھر کیا تھا ؟ بڑے ہی بگڑے اور مجھ سے فرمانے لگے یہ دلیری؟ تم نہیں جانتیں لڑائی ہو رہی ہے؟ اللہ جانے کیا نتیجہ ہو؟ تم کیسے یہاں چلی آئیں وغیرہ وغیرہ ۔ جو صاحب مغفر سے اپنا منہ چھپائے ہوئے تھے انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ باتیں سن کر اپنے سر سے لوہے کا ٹوپ اتارا دیکھا اب میں پہچان گئی کہ وہ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاموش کیا کہ کیا ملامت شروع کر رکھی ہے نتیجے کا کیا ڈر ہے؟ کیوں تمہیں اتنی گھبراہٹ ہے؟ کوئی بھاگ کے جائے گا کہاں؟ سب کچھ اللہ کے ہاتھ ہے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک قریشی نے تاک کر تیر لگایا اور کہا لے میں ابن عرقہ ہوں ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رگ اکحل پر وہ تیر پڑا اور پیوست ہوگیا ۔ خون کے فوارے چھوٹ گئے اسی وقت آپ نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے موت نہ دینا جب تک بنو قریظہ کی تباہی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو ۔ اللہ کی شان سے اسی وقت خون تھم گیا ۔ مشرکین کو ہواؤں نے بھگادیا اور اللہ نے مومنوں کی کفایت کردی ابو سفیان اور اسکے ساتھی تو بھاگ کر تہامہ میں چلے گئے عینیہ بن بدر اس کے ساتھی نجد میں چلے گئے ۔ بنو قریظہ اپنے قلعہ میں جاکر پنا گزین ہوگئے ۔ میدان خالی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں واپس تشریف لے آئے ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے مسجد میں ہی چمڑے کا ایک خیمہ نصب کیا گیا اسی وقت حضرت جبرائیل آئے آپ کا چہرہ گرد آلود تھا فرمانے لگے آپ نے ہتھیار کھول دئیے؟ حالانکہ فرشتے اب تک ہتھیار بند ہیں ۔ اٹھئے بنو قریظہ سے بھی فیصلہ کر لیجئے ان پر چڑھائی کیجئے حضور نے فوراً ہتھیار لگا لئے اور صحابہ میں بھی کوچ کی منادی کرادی ۔ بنو تمیم کے مکانات مسجد نبوی سے متصل ہی تھے راہ میں آپ نے ان سے پوچھا کیوں بھئی؟ کسی کو جاتے ہوئے دیکھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ابھی ابھی حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے ہیں ۔ حالانکہ تھے تو وہ حضرت جبرائیل لیکن آپ کی ڈاڑھی چہرہ وغیرہ بالکل حضرت دحیہ کلبی سے ملتاجلتا تھا ۔ اب آپ نے جاکر بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کیا پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا ۔ جب وہ گھبرائے اور تنگ آگئے تو ان سے کہا گیا کہ قلعہ ہمیں سونپ دو اور تم اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے بارے میں جو چاہیں گے فیصلہ فرمادیں گے ۔ انہوں نے حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا اس صورت میں تو اپنی جان سے ہاتھ دھولینا ہے ۔ انہوں نے یہ معلوم کرکے اسے تو نامنظور کردیا اور کہنے لگے ہم قلعہ خالی کردیتے ہیں آپ کی فوج کو قبضہ دیتے ہیں ہمارے بارے کا فیصلہ ہم حضرت سعد بن معاذ کو دیتے ہیں ۔ آپ نے اسے بھی منظور فرمالیا ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا آپ تشریف لے آئے گدھے پر سوار تھے جس پر کجھور کے درخت کی چھال کی گدی تھی آپ اس پر بمشکل سوار کرادیئے گئے تھے آپ کی قوم آپ کو گھیرے ہوئے تھی اور سمجھارہی تھی کہ دیکھو بنو قریظہ ہمارے حلیف ہیں ہمارے دوست ہیں ہماری موت زیست کے شریک ہیں اور ان کے تعلقات جو ہم سے ہیں وہ آپ پر پوشیدہ نہیں ۔ آپ خاموشی سے سب کی باتیں سنتے جاتے تھے جب ان کے محلہ میں پہنچے تو ان کی طرف نظر ڈالی اور کہا وقت آگیا کہ میں اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقا پرواہ نہ کروں ۔ جب حضور کے خیمے کے پاس ان کی سواری پہنچی تو حضور نے فرمایا اپنے سید کی طرف اٹھو اور انہیں اتارو ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہمارا سید تو اللہ ہی ہے ۔ آپ نے فرمایا اتارو ۔ لوگوں نے مل جل کر انہیں سواری سے اتارا حضور نے فرمایا سعد رضی اللہ ان کے بارے میں جو حکم کرنا چاہو کر دو ۔ آپ نے فرمایا ان کے بڑے قتل کردئیے جائیں اور ان کے چھوٹے غلام بنائیے جائیں ان کا مال تقسیم کر لیا جائے ۔ آپ نے فرمایا سعد رضی اللہ تم نے اس حکم میں اللہ اور اس کے رسول کی پوری موافقت کی ۔ پھر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا مانگی کہ اے اللہ اگر تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قریش کی کوئی اور چڑھائی ابھی باقی ہو تو مجھے اس کی شمولیت کے لئے زندہ رکھ ورنہ اپنی طرف بلالے ۔ اسی وقت زخم سے خون بہنے لگا حالانکہ وہ پورا بھر چکا تھا یونہی سا باقی تھا چنانچہ انہیں پھر اسی خیمے میں پہنچا دیا گیا اور آپ وہیں شہد ہوگئے رضی اللہ عنہ ۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی عنہ وغیرہ بھی آئے سب رو رہے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کی آواز عمر رضی اللہ کی آواز میں پہچان بھی ہو رہی تھی میں اس وقت اپنے حجرے میں تھی ۔ فی الواقع اصحاب رسول اللہ ایسے ہی تھے جیسے اللہ نے فرمایا آیت ( رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ 29؀ۧ ) 48- الفتح:29 ) آپس میں ایک دوسرے کی پوری محبت اور ایک دوسرے سے الفت رکھنے والے تھے ۔ حضرت علقمہ رضی اللہ نے پوچھا ام المومنین یہ تو فرمائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح رویا کرتے تھے؟ فرمایا آپ کی آنکھیں کسی پر آنسو نہیں بہاتی تھیں ہاں غم ورنج کے موقعہ پر آپ داڑھی مبارک اپنی مٹھی میں لے لیتے تھے ۔