Surah

Information

Surah ID #34
Total Verses 54 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 0
Actual Order #58
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD)
Surah 34: Saba' Ayat #32
قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿32﴾
Those who were arrogant will say to those who were oppressed, "Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals."
یہ بڑے لوگ ان کمزورں کو جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس ہدایت آچکنے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا؟ ( نہیں ) بلکہ تم ( خود ) ہی مجرم تھے ۔

More translations & tafseer

قال الذين استكبروا للذين استضعفوا انحن صددنكم عن الهدى بعد اذ جاءكم بل كنتم مجرمين
Those who were arrogant will say to those who were oppressed, "Did we avert you from guidance after it had come to you? Rather, you were criminals."
Yeh baray log inn kamzoron ko jawab den gay kay kiya tumharay pass hidayat aa chukney kay baad hum ney tumhen iss say roka tha? ( nahi ) bulkay tum ( khud ) hi mujrim thay.
جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے کہیں گے جنہیں کمزور سمجھا گیا تھا کہ : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا جبکہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے ۔
وہ جو اونچے کھینچتے تھے ان سے کہیں گے جو دبے ہوئے تھے کیا ہم نے تمہیں روک دیا ہدایت سے بعد اس کے کہ تمہارے پاس آئی بلکہ تم خود مجرم تھے ،
‘ وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں ، بلکہ تم خود مجرم تھے 52 ۔
متکبرّ لوگ کمزوروں سے کہیں گے: کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی ، بلکہ تم خود ہی مُجرم تھے
سورة سَبـَا حاشیہ نمبر :52 یعنی وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی اپنی پیروی پر مجبور کر دیتے ۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں اور حکومتوں کا تختہ الٹ سکتے تھے ۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے ۔ ہماری دولت اور طاقت کا سر چشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا ۔ تم نذرانے اور ٹیکس نہ دیتے تو ہم مفلس تھے ۔ تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی ۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا ۔ تم ہماری فوج بن کر دنیا بھر سے ہمارے لیے لڑنے پر تیار نہ ہوتے تو ایک انسان پر بھی ہمارا بس نہ چل سکتا تھا ۔ اب کیوں نہیں مانتے کہ دراصل تم خود اس راستے پر نہ چلنا چاہتے تھے جو رسولوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا ۔ تم اپنی اغراض اور خواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ مانگ رسولوں کی بتائی ہوئی راہ تقویٰ کے بجائے ہمارے ہاں پوری ہوتی تھی ۔ تم حرام و حلال سے بے نیاز ہو کر عیش دنیا کے طالب تھے اور وہ ہمارے پاس ہی تمہیں نظر آتا تھا ۔ تم ایسے پیروں کی تلاش میں تھے جو تمہیں ہر طرح کے گناہوں کی کھلی چھوٹ دیں اور کچھ نذرانہ لے کر خدا کے ہاں تمہیں بخشوا دینے کی خود ذمہ داری لے لیں ۔ تم ایسے پنڈتوں اور مولویوں کے طلب گار تھے جو ہر شرک اور ہر بدعت اور تمہارے نفس کی ہر دل پسند چیز کو عین حق ثابت کر کے تمہارا دل خوش کریں اور اپنا کام بنائیں ۔ تم کو ایسے جعل سازوں کی ضرورت تھی جو خدا کے دین کو بدل کر تمہاری خواہشات کے مطابق ایک نیا دین گھڑیں ۔ تم کو ایسے لیڈر درکار تھے جو کسی نہ کسی طرح تمہاری دنیا بنا دیں خواہ عاقبت بگڑے یا درست ہو ۔ تم کو ایسے حاکم مطلوب تھے جو خود بد کردار اور بد دیانت ہوں اور ان کی سرپرستی میں تمہیں ہر قسم کے گناہوں اور بد کرداریوں کی چھوٹ ملی رہے ۔ اس طرح ہمارے اور تمہارے درمیان برابر کا لین دین کا سودا ہوا تھا ۔ اب تم کہاں یہ ڈھونگ رچانے چلے ہو کہ گویا تم بڑے معصوم لوگ تھے اور ہم نے زبردستی تمہیں بگاڑ دیا تھا ۔