وَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِيۡبًا اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعۡمَةً مِّنۡهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدۡعُوۡۤا اِلَيۡهِ مِنۡ قَبۡلُ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنۡدَادًا لِّيُـضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِكُفۡرِكَ قَلِيۡلًا ۖ اِنَّكَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿8﴾
And when adversity touches man, he calls upon his Lord, turning to Him [alone]; then when He bestows on him a favor from Himself, he forgets Him whom he called upon before, and he attributes to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy your disbelief for a little; indeed, you are of the companions of the Fire."
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے ، پھر جب اللہ تعالٰی اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے ( بالکل بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے ( اوروں کو بھی ) اس کی راہ سے بہکائے ، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائدہ کچھ دن اور اٹھالو ، ( آخر ) تو دوزخیوں میں ہونے والا ہے ۔