Surah

Information

Surah ID #40
Total Verses 85 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #60
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 56, 57, from Madina
Surah 40: Ghafir Ayat #25
فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏ ﴿25﴾
And when he brought them the truth from Us, they said, "Kill the sons of those who have believed with him and keep their women alive." But the plan of the disbelievers is not except in error.
پس جب ان کے پاس ( موسیٰ علیہ السلام ) ہماری طرف سے ( دین ) حق کو لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے ۔

More translations & tafseer

فلما جاءهم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابناء الذين امنوا معه و استحيوا نساءهم و ما كيد الكفرين الا في ضلل
And when he brought them the truth from Us, they said, "Kill the sons of those who have believed with him and keep their women alive." But the plan of the disbelievers is not except in error.
Pus jab unn kay pass ( musa alh-e-salam ) humari taraf say ( deen ) haq ko ley ker aaye to unhon ney kaha kay iss kay sath jo eman walay hain unn kay larkon ko to maar dalo aur inn ki larkiyon ko zindah rakho aur kafiron ki jo heela saazi hai woh ghalati mein hi hai.
پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی ( 5 ) تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو ۔ حالانکہ کافروں کی چال کا اناجم اس کے سوا کچھ نہیں وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں
پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا ( ف۵۲ ) بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو ( ف۵۳ ) اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا ( ف۵٤ )
پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا 38 تو انہوں نے کہا جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو 39 ۔ مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی 40
پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو ، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :38 یعنی جب پے در پے معجزات اور نشانیاں دکھا کر حضرت موسیٰ نے یہ بات ان پر پوری طرح ثابت کر دی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور مضبوط دلائل سے اپنا برسر حق ہونا پوری طرح واضح کر دیا ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :39 سورہ اعراف ، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰ ( علیہ السلام ) کو کھلی چھٹی کب تک دی جائے گی ، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں ( تفہیم القرآن ، جلد دوم ، الاعراف ، حاشیہ ۹۳ ) ۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کر دیا گیا ۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کے حامیوں اور پیروؤں کو اتنا خوف زدہ کر دیا جائے کہ وہ ڈر کے مارے ان کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :40 اصل الفاظ ہیں وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِی ضَلٰلٍ ۔ اس فقرے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کافروں کی جو چال بھی تھی ، گمراہی اور ظلم و جور اور مخالفت حق ہی کی راہ میں تھی ، یعنی حق واضح ہو جانے اور دلوں میں قائل ہو جانے کے باوجود وہ اپنی ضد میں بڑھتے ہی چلے گئے اور صداقت کو نیچا دکھانے کے لیے انہوں نے کوئی ذلیل سے ذلیل تدبیر اختیار کرنے میں بھی باک نہ کیا ۔