Surah

Information

Surah ID #40
Total Verses 85 Ayaat
Rukus 9
Sajdah 0
Actual Order #60
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 56, 57, from Madina
Surah 40: Ghafir Ayat #34
وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَيِّنٰتِ فَمَا زِلۡـتُمۡ فِىۡ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمۡ بِهٖ ؕ حَتّٰٓى اِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَنۡ يَّبۡعَثَ اللّٰهُ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ رَسُوۡلًا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابٌ  ۚ ۖ‏ ﴿34﴾
And Joseph had already come to you before with clear proofs, but you remained in doubt of that which he brought to you, until when he died, you said, 'Never will Allah send a messenger after him.' Thus does Allah leave astray he who is a transgressor and skeptic."
اور اس سے پہلے تمہارے پاس ( حضرت ) یوسف دلیلیں لے کر آئے ، پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی ( دلیل ) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوگئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں ، اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا شک وشبہ کرنے والا ہو ۔

More translations & tafseer

و لقد جاءكم يوسف من قبل بالبينت فما زلتم في شك مما جاءكم به حتى اذا هلك قلتم لن يبعث الله من بعده رسولا كذلك يضل الله من هو مسرف مرتاب
And Joseph had already come to you before with clear proofs, but you remained in doubt of that which he brought to you, until when he died, you said, 'Never will Allah send a messenger after him.' Thus does Allah leave astray he who is a transgressor and skeptic."
Aur iss say pehlay tumharay pass ( hazrat ) yousuf daleelen ley ker aaye phir bhi tum inn ki laaee hui ( daleel ) mein shak-o-shuba hi kertay rahey yahan tak kay jab unki wafaat hogaee to kehney lagay inn kay baad to Allah kissi rasool ko bhejay ga hi nahi issi tarah Allah gumrah kerta hai her uss shaks ko jo hadd say barh janey wala shak-o-shuba kerney wala ho.
اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام ) تمہارے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے ( 8 ) تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے ۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا ( 9 ) ۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے ، شکی ہوتے ہیں ۔
اور بیشک اس سے پہلے ( ف۷٤ ) تمہارے پاس یوسف روشن نشانیاں لے کر آئے تو تم ان کے لائے ہوئے سے شک ہی میں رہے ، یہاں تک کہ جب انہوں نے انتقال فرمایا تم بولے ہرگز اب اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا ( ف۷۵ ) اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے اسے جو حد سے بڑھنے والا شک لانے والا ہے ( ف۷٦ )
اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام ) تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے ۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا 51 ۔ ـــــــ52 اسی طرح اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں ۔
اور ( اے اہلِ مصر! ) بے شک تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف ( علیہ السلام ) واضح نشانیوں کے ساتھ آچکے اور تم ہمیشہ ان ( نشانیوں ) کے بارے میں شک میں ( پڑے ) رہے جو وہ تمہارے پاس لائے تھے ، یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم کہنے لگے کہ اب اللہ ان کے بعد ہرگز کسی رسول کو نہیں بھیجے گا ۔ اسی طرح اللہ اس شخص کو گمراہ ٹھہرا دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا شک کرنے والا ہو
سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :51 یعنی تمہاری گمراہی اور پھر اس پر ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام سے پہلے تمہارے ملک میں یوسف علیہ السلام آئے جن کے متعلق تم خود مانتے ہو کہ وہ بلند ترین اخلاق کے حامل تھے ، اور اس بات کا بھی تمہیں اعتراف ہے کہ انہوں نے بادشاہ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر دے کر تمہیں سات برس کے اس خوفناک قحط کی تباہ کاریوں سے بچا لیا جو ان کے دور میں تم پر آیا تھا ، اور تمہاری ساری قوم اس بات کی بھی معترف ہے کہ ان کے دور حکومت سے بڑھ کر عدل و انصاف اور خیر و برکت کا زمانہ کبھی مصر کی سر زمین نے نہیں دیکھا ، مگر ان کی ساری خوبیاں جانتے اور مانتے ہوئے بھی تم نے ان کے جیتے جی ان پر ایمان لا کر نہ دیا ، اور جب ان کی وفات ہو گئی تو تم نے کہا کہ اب بھلا ایسا آدمی کہاں پیدا ہو سکتا ہے ۔ گویا تم ان کی خوبیوں کے معترف ہوئے بھی تو اس طرح کہ بعد کے آنے والے ہر نبی کا انکار کرنے کے لیے اسے ایک مستقل بہانا بنا لیا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت بہرحال تمہیں قبول نہیں کرنی ہے ۔ سورة الْمُؤْمِن حاشیہ نمبر :52 بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آگے کے یہ چند فقرے اللہ تعالیٰ نے مومن آل فرعون کے قول پر بطور اضافہ و تشریح ارشاد فرمائے ہیں ۔