Surah

Information

Surah ID #41
Total Verses 54 Ayaat
Rukus 6
Sajdah 1
Actual Order #61
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD)
Surah 41: Fussilat Ayat #37
وَمِنۡ اٰيٰتِهِ الَّيۡلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ‌ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَاسۡجُدُوۡا لِلّٰهِ الَّذِىۡ خَلَقَهُنَّ اِنۡ كُنۡتُمۡ اِيَّاهُ تَعۡبُدُوۡنَ‏ ﴿37﴾
And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah , who created them, if it should be Him that you worship.
اور دن رات اور سورج چاند بھی ( اسی کی ) نشانیوں میں سے ہیں تم سورج کو سجدہ نہ کرو نہ چاند کو بلکہ سجدہ اس اللہ کے لئے کرو جس نے سب کو پیدا کیا ہے اگر تمہیں اسی کی عبادت کرنی ہے تو ۔

More translations & tafseer

و من ايته اليل و النهار و الشمس و القمر لا تسجدوا للشمس و لا للقمر و اسجدوا لله الذي خلقهن ان كنتم اياه تعبدون
And of His signs are the night and day and the sun and moon. Do not prostrate to the sun or to the moon, but prostate to Allah , who created them, if it should be Him that you worship.
Aur din raat aur sooraj chand bhi ( ussi ki ) nishaniyon mien say hain tum sooraj ko sajdah na kero na chand ko bulkay sajdah uss Allah kay liye kero jiss ney inn sab ko peda kiya hai agar tumhen ussi ki ibadat kerni hai to.
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند ۔ نہ سورج کو سجدہ کرو نہ چاند کو اور سجدہ اس اللہ کو کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ اگر واقعی تمہیں اسی کی عبادت کری ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن اور سورج اور چاند ( ف۸٤ ) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو ( ف۸۵ ) اور اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ( ف۸٦ ) اگر تم اس کے بندے ہو ،
42 اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سورج اور چاند 43 ۔ سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اس خدا کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو 44 ۔
اور رات اور دن اور سورج اور چاند اُس کی نشانیوں میں سے ہیں ، نہ سورج کو سجدہ کیا کرو اور نہ ہی چاند کو ، اور سجدہ صرف اﷲ کے لئے کیا کرو جس نے اِن ( سب ) کو پیدا فرمایا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو
سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :42 اب روئے سخن عوام الناس کی طرف مڑ رہا ہے اور چند فقرے ان کو حقیقت سمجھانے کے لیے ارشاد ہورے ہیں ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :43 یعنی یہ اللہ کے مظاہر نہیں ہیں کہ تم یہ سمجھتے ہوئے ان کی عبادت کرنے لگو کہ اللہ ان کی شکل میں خود اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے ، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن پر غور کرنے سے تم کائنات کی اور اس کے نظام کی حقیقت سمجھ سکتے ہو اور یہ جان سکتے ہو کہ انبیاء علیہم السلام جس توحید خداوندی کی تعلیم دے رہے ہیں وہی امر واقعی ہے ۔ سورج اور چاند سے پہلے رات اور دن کا ذکر اس امر پر متنبہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ رات کو سورج کا چھپنا اور چاند کا نکل آنا ، اور دن کو چاند کا چھپنا اور سورج کا نمودار ہو جانا صاف طور پر یہ دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی خدا یا خدا کا مظہر نہیں ہے ، بلکہ دونوں ہی مجبور و لاچار بندے ہیں جو خدا کے قانون میں بندھے ہوئے گردش کر رہے ہیں ۔ سورة حٰمٓ السَّجْدَة حاشیہ نمبر :44 یہ جواب ہے اس فلسفے کا جو شرک کو معقول ثابت کرنے کے لیے کچھ زیادہ ذہین قسم کے مشرکین عموماً بگھارا کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سجدہ نہیں کرتے بلکہ ان کے واسطے سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ ہی کے عبادت گزار ہو تو ان واسطوں کی کیا ضرورت ہے ، براہ راست خود اسی کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ۔
مخلوق کو نہیں خالق کو سجدہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو اپنی عظیم الشان قدرت اور بےمثال طاقت دکھاتا ہے کہ وہ جو کرنا چاہے کر ڈالتا ہے سورج چاند دن رات اس کی قدرت کاملہ کے نشانات ہیں ۔ رات کو اس کے اندھیروں سمیت دن کو اس کے اجالوں سمیت اس نے بنایا ہے ۔ کیسے یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں؟ سورج کو روشنی اور چمکتے چاند کو اور اس کی نورانیت کو دیکھ لو ان کی بھی منزلیں اور آسمان مقرر ہیں ۔ ان کے طلوع و غروب سے دن رات کا فرق ہو جاتا ہے ۔ مہینے اور برسوں کی گنتی معلوم ہو جاتی ہے جس سے عبادات معاملات اور حقوق کی باقادہ ادائیگی ہوتی ہے ۔ چونکہ آسمان و زمین میں زیادہ خوبصورت اور منور سورج اور چاند تھا اس لئے انہیں خصوصیت سے اپنا مخلوق ہونا بتایا اور فرمایا کہ اگر اللہ کے بندے ہو تو سورج چاند کے سامنے ماتھا نہ ٹیکنا اس لئے کہ وہ مخلوق ہیں اور مخلوق سجدہ کرنے کے قابل نہیں ہوتی سجدہ کئے جانے کے لائق وہ ہے جو سب کا خالق ہے ۔ پس تم اللہ کی عبادت کئے چلے جاؤ ۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے سوا اس کی کسی مخلوق کی بھی عبادت کرلی تو تم اس کی نظروں سے گر جاؤ گے اور پھر تو وہ تمہیں کبھی نہ بخشے گا ، جو لوگ صرف اس کی عبادت نہیں کرتے بلکہ کسی اور کی بھی عبادت کر لیتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کے عابد وہی ہیں ۔ وہ اگر اس کی عبادت چھوڑ دیں گے تو اور کوئی اس کا عابد نہیں رہے گا ۔ نہیں نہیں اللہ ان کی عبادتوں سے محض بےپرواہ ہے اس کے فرشتے دن رات اس کی پاکیزگی کے بیان اور اس کی خالص عبادتوں میں بےتھکے اور بن اکتائے ہر وقت مغشول ہیں ۔ جیسے اور آیت میں ہے اگر یہ کفر کریں تو ہم نے ایک قوم ایسی بھی مقرر کر رکھی ہے جو کفر نہ کرے گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں رات دن کو سورج چاند کو اور ہوا کو برا نہ کہو یہ چیزیں بعض لوگوں کے لئے رحمت ہیں اور بعض کے لئے زحمت ، اس کی اس قدرت کی نشانی کہ وہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے اگر دیکھنا چاہتے ہو تو مردہ زمین کا بارش سے جی اٹھنا دیکھ لو کہ وہ خشک چٹیل اور بےگھاس پتوں کے بغیر ہوتی ہے ۔ مینہ برستے ہی کھیتیاں پھل سبزہ گھاس اور پھول وغیرہ اگ آتے ہیں اور وہ ایک عجیب انداز سے اپنے سبزے کے ساتھ لہلہانے لگتی ہے ، اسے زندہ کرنے والا ہی تمہیں بھی زندہ کرے گا ۔ یقین مانو کہ وہ جو چاہے اس کی قدرت میں ہے ۔