Surah

Information

Surah ID #42
Total Verses 53 Ayaat
Rukus 5
Sajdah 0
Actual Order #62
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 23, 24, 25, 27, from Madina
Surah 42: Ash-Shura Ayat #37
وَالَّذِيۡنَ يَجۡتَنِبُوۡنَ كَبٰٓٮِٕرَ الۡاِثۡمِ وَالۡفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوۡا هُمۡ يَغۡفِرُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿37﴾
And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,
اور کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت ( بھی ) معاف کر دیتے ہیں ۔

More translations & tafseer

و الذين يجتنبون كبىر الاثم و الفواحش و اذا ما غضبوا هم يغفرون
And those who avoid the major sins and immoralities, and when they are angry, they forgive,
Aur kabeerah gunahon say aur be-hayaeeon say bachtay hain aur gussay kay waqt ( bhi ) maaf ker detay hain.
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ درگذر سے کام لیتے ہیں ۔
اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں ،
اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں 57 ، جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں 58 اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جا تے ہیں 59 ،
اور جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب انہیں غصّہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں
سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :57 اللہ پر توکل کو یہاں ایمان لانے کا لازمی تقاضا ، اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف قرار دیا گیا ہے ۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ : اولاً ، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم ، اخلاق کے جو اصول ، حلال و حرام کے جو حدود ، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیے ہیں وہی بر حق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے ۔ ثانیاً ، آدمی کا بھروسہ اپنی طاقت ، قابلیت ، اپنے ذرائع و وسائل ، اپنی تدابیر ، اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو ، بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ کی توفیق و تائید پر ہے ، اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہو سکتا ہے جبکہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر ، اس کے مقرر کی ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے ۔ ثالثاً ، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کے بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں ، اور ان ہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات مار دے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں ، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں ۔ توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے ، اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہو سکتے جن کا وعدہ ایمان لا کر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :58 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، النساء ، حواشی ۵۳ ۔ ۵٤ ، الانعام ، حواشی ۱۳۰ ، ۱۲۱ ، جلدو دوم ، النحل ، حاشیہ ۸۹ ، نیز سورہ نجم ، آیت ۳۲ ۔ سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :59 یعنی وہ غصیل اور جھلے نہیں ہوتے ، بلکہ نرم خو اور دھیمے مزاج کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی بلکہ وہ بندگان خدا سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں ، اور کسی بات پر غصہ آ بھی جاتا ہے تو اسے پی جاتے ہیں ۔ یہ وصف انسان کی بہترین صفات میں سے ہے جسے قرآن مجید میں نہایت قابل تعریف قرار دیا گیا ہے ( آل عمران ، آیت 134 ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی کے بڑے اسباب میں شمار کیا گیا ہے ۔ ( آل عمران ، 159 ) ۔ حدیث میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ : مآ انتقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لنفسہ فی شئ قط الا ان تنتھک حرمَۃ اللہِ ( بخاری و مسلم ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا ۔ البتہ جب اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی تب آپ سزا دیتے تھے ۔