سورة الشُّوْرٰی حاشیہ نمبر :68
واضح رہے کہ ان آیات میں اہل ایمان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ اس وقت عملاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں میں موجود تھیں ، اور کفار مکہ اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے دراصل کفار کو یہ بتایا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی بسر کرنے کا جو سر و سامان پاکر تم آپے سے باہر ہوئے جاتے ہو ، اصل دولت وہ نہیں ہے بلکہ اصل دولت یہ اخلاق اور اوصاف ہیں جو قرآن کی رہنمائی قبول کر کے تمہارے ہی معاشرے کے ان مومنوں نے اپنے اندر پیدا کیے ہیں ۔