Surah

Information

Surah ID #43
Total Verses 89 Ayaat
Rukus 7
Sajdah 0
Actual Order #63
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 54, from Madina
Surah 43: Az-Zukhruf Ayat #45
وَسۡـــَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِهَةً يُّعۡبَدُوۡنَ‏ ﴿45﴾
And ask those We sent before you of Our messengers; have We made besides the Most Merciful deities to be worshipped?
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟

More translations & tafseer

و سل من ارسلنا من قبلك من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن الهة يعبدون
And ask those We sent before you of Our messengers; have We made besides the Most Merciful deities to be worshipped?
Aur humaray inn nabiyon say poocho! Jinhen hum ney aap say pehlay bheja tha kay kiya hum ney siwaye rehman kay aur mabood muqarrar kiyey thay jinn ki ibadat ki jaye?
اور تم سے پہلے ہم نے اپنے جو پیغمبر بھیجے ہیں ، ان سے پوچھ لو ( ١٣ ) کہ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کوئی اور معبود بھی مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟
اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو ( ف۷۵ )
اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی39 ۔ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو ، کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ ان کی بندگی کی جاۓ؟ 40 ۔ ع
اور جو رسول ہم نے آپ سے پہلے بھیجے آپ اُن سے پوچھئے کہ کیا ہم نے ( خدائے ) رحمان کے سوا کوئی اور معبود بنائے تھے کہ اُن کی پرستش کی جائے
سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :39 یعنی اس سے بڑھ کر کسی شخص کی کوئی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ تمام انسانوں میں سے اس کو اللہ اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے منتخب کرے اور کسی قوم کے حق میں بھی اس سے بڑی کسی خوش قسمتی کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کی دوسری سب قوموں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اس کے ہاں اپنا نبی پیدا کرے اور اس کی زبان میں اپنی کتاب نازل کرے اور اسے دنیا میں پیغام خداوندی کی حامل بن کر اٹھنے کا موقع دے ۔ اس شرف عظیم کا احساس اگر قریش اور اہل عرب کو نہیں ہے اور وہ اس ناقدری کرنا چاہتے ہیں تو ایک وقت آئے گا جب انہیں اس کی جواب دہی کرنی ہو گی ۔ سورة الزُّخْرُف حاشیہ نمبر :40 رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ان کی لائی ہوئی کتابوں سے معلوم کرنا ہے ۔ جس طرح : فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی معاملہ میں اگر تمہارے درمیان نزاع ہو تو اسے اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ ، بلکہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف رجوع کرو ، اسی طرح رسولوں سے پوچھنے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ جو رسول دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں ان سب کے پاس جا کر دریافت کرو ، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ خدا کے رسول دنیا میں جو تعلیمات چھوڑ گئے ہیں ان سب میں تلاش کر کے دیکھ لو ، آخر کس نے یہ بات سکھائی تھی کہ اللہ جل شانہ کے سوا بھی کوئی عبادت کا مستحق ہے ؟