Surah

Information

Surah ID #44
Total Verses 59 Ayaat
Rukus 3
Sajdah 0
Actual Order #64
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD)
Surah 44: Ad-Dukhan Ayat #19
وَّاَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ‌ۚ اِنِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍ‌ۚ‏ ﴿19﴾
And [saying], "Be not haughty with Allah . Indeed, I have come to you with clear authority.
اور تم اللہ تعالٰی کے سامنے سرکشی نہ کرو ، میں تمہارے پاس کھلی دلیل لانے والا ہوں ۔

More translations & tafseer

و ان لا تعلوا على الله اني اتيكم بسلطن مبين
And [saying], "Be not haughty with Allah . Indeed, I have come to you with clear authority.
Aur tum Allah Taalaa kay samney sirkashi na kero mein tumharay pass khulli daleel laney wala hun.
اور یہ کہ : اللہ کے آگے سرکشی مت کرو ، میں تمہارے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل پیش کرتا ہوں ۔
اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو ، میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں ( ف۱۸ )
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو ۔ میں تمہارے سامنے ( اپنی ماموریت کی ) صریح سند پیش کرتا ہوں18 ۔
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو ، میں تمہارے پاس روشن دلیل لے کر آیا ہوں
سورة الدُّخَان حاشیہ نمبر :18 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے مقابلے میں جو سرکشی تم کر رہے ہو یہ دراصل اللہ کے مقابلے میں سرکشی ہے ، کیونکہ میری جن باتوں پر تم بگڑ رہے ہو وہ میری نہیں بلکہ اللہ کی باتیں ہیں اور میں اسی کے رسول کی حیثیت سے انہیں بیان کر رہا ہوں ۔ اگر تمہیں اس میں شک ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں یا نہیں ، تو میں تمہارے سامنے اپنے مامور من اللہ ہونے کی صریح سند پیش کرتا ہوں ۔ اس سند سے مراد کوئی ایک معجزہ نہیں ہے بلکہ معجزات کا وہ طویل سلسلہ ہے جو فرعون کے دربار میں پہلی مرتبہ پہنچنے کے بعد سے آخر زمانہ قیام تک حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی قوم کو سالہا سال تک دکھاتے رہے ۔ جس سند کو بھی ان لوگوں نے جھٹلایا اس سے بڑھ کر صریح سند آپ پیش کرتے چلے گئے ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، الزخرف حواشی نمبر 42 ۔ 43 ) ۔