Surah

Information

Surah ID #45
Total Verses 37 Ayaat
Rukus 4
Sajdah 0
Actual Order #65
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD). Except 14, from Madina
Surah 45: Al-Jathiya Ayat #13
وَسَخَّرَ لَـكُمۡ مَّا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مِّنۡهُ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَكَّرُوۡنَ‏ ﴿13﴾
And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him. Indeed in that are signs for a people who give thought.
اور آسمان و زمین کی ہر ہرچیز کو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے لئے تابع کر دیا ہے جو غور کریں یقیناً وہ اس میں بہت سی نشانیاں پا لیں گے ۔

More translations & tafseer

و سخر لكم ما في السموت و ما في الارض جميعا منه ان في ذلك لايت لقوم يتفكرون
And He has subjected to you whatever is in the heavens and whatever is on the earth - all from Him. Indeed in that are signs for a people who give thought.
Aur aasman-o-zamin ki her her cheez ko bhi uss ney apni taraf say tumharay liye tabey ker diya hai. Jo ghor keren yaqeenan woh iss mein boht si nishaniyan paa len gay.
اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اس سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غوروفکر سے کام لیں ۔
اور تمہارے لیے کام میں لگائے جو کچھ آسمان میں ہیں ( ف۱۵ ) اور جو کچھ زمین میں ( ف۱٦ ) اپنے حکم سے بیشک اس میں نشانیاں ہیں سوچنے والوں کے لئے ،
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا 15 ، سب کچھ اپنے پاس سے 16ــــ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں17 ۔
اور اُس نے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، سب کو اپنی طرف سے ( نظام کے تحت ) مسخر کر دیا ہے ، بیشک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں
سورة الْجَاثِیَة حاشیہ نمبر :15 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، ابراہیم ، حاشیہ ٤٤ ، جلد چہارم ، لقمان ، حاشیہ 35 ۔ سورة الْجَاثِیَة حاشیہ نمبر :16 اس فقرے کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ کا یہ عطیہ دنیا کے بادشاہوں کا سا عطیہ نہیں ہے جو رعیت سے حاصل کیا ہوا مال رعیت ہی میں سے کچھ لوگوں کو بخش دیتے ہیں ، بلکہ کائنات کی ساری نعمتیں اللہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں اور اس نے اپنی طرف سے یہ انسان کو عطا فرمائی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ نہ ان کی نعمتوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک ، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے میں کسی اور ہستی کا کوئی دخل ، تنہا اللہ ہی ان کا خالق بھی ہے اور اسی نے اپنی طرف سے وہ انسان کو عطا کی ہیں ۔ سورة الْجَاثِیَة حاشیہ نمبر :17 یعنی اس تسخیر میں اور ان چیزوں کو انسان کے لیے نافع بنانے میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔ یہ نشانیاں اس حقیقت کی طرف کھلا کھلا اشارہ کر رہی ہیں کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک کائنات کی تمام اشیاء اور قوتوں کا خالق و مالک اور مدبر و منتظم ایک ہی خدا ہے جس نے ان کو ایک قانون کا تابع بنا رکھا ہے ۔ اور وہی خدا انسان کا رب ہے جس نے اپنی قدرت اور حکمت اور رحمت سے ان تمام اشیاء اور وقتوں کو انسان کی زندگی ، اس کی معیشت ، اس کی آسائش ، اس کی ترقی اور اس کی تہذیب و تمدن کے لیے سازگار و مددگار بنایا ہے ۔ اور تنہا وہی خدا انسان کی عبودیت اور شکر گزاری اور نیاز مندی کا مستحق ہے نہ کہ کچھ دوسری ہستیاں جن کا نہ ان اشیاء اور قوتوں کے پیدا کرنے میں کوئی حصہ ، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے اور نافع بنانے میں کوئی دخل ۔