Surah

Information

Surah ID #48
Total Verses 29 Ayaat
Rukus 4
Sajdah 0
Actual Order #111
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD).Revealed while returning from Hudaybiyya
Surah 48: Al-Fath Ayat #16
قُلْ لِّلۡمُخَلَّفِيۡنَ مِنَ الۡاَعۡرَابِ سَتُدۡعَوۡنَ اِلٰى قَوۡمٍ اُولِىۡ بَاۡسٍ شَدِيۡدٍ تُقَاتِلُوۡنَهُمۡ اَوۡ يُسۡلِمُوۡنَ‌ ۚ فَاِنۡ تُطِيۡـعُوۡا يُـؤۡتِكُمُ اللّٰهُ اَجۡرًا حَسَنًا‌ ۚ وَاِنۡ تَتَـوَلَّوۡا كَمَا تَوَلَّيۡـتُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ يُعَذِّبۡكُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا‏ ﴿16﴾
Say to those who remained behind of the bedouins, "You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit. So if you obey, Allah will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment."
آپ پیچھے چھوڑے ہوئے بدویوں سے کہہ دو کہ عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گے کہ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے پس اگر تم اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہت بہتر بدلہ دے گا اور اگر تم نے منہ پھیر لیا جیسا کہ اس سے پہلے تم منہ پھیر چکے ہو تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا ۔

More translations & tafseer

قل للمخلفين من الاعراب ستدعون الى قوم اولي باس شديد تقاتلونهم او يسلمون فان تطيعوا يؤتكم الله اجرا حسنا و ان تتولوا كما توليتم من قبل يعذبكم عذابا اليما
Say to those who remained behind of the bedouins, "You will be called to [face] a people of great military might; you may fight them, or they will submit. So if you obey, Allah will give you a good reward; but if you turn away as you turned away before, He will punish you with a painful punishment."
Aap peechay choray huye badviyon say kehdo kay unqareeb tum aik sakht jangjoo qom ki taraf bulaye jao gay kay tum unn say laro gay ya woh musalman hojayen gay pus agar tum ita’at kero gay to Allah tumhen boht behtar badla dey ga aur agar tum ney mun pher liya jaisa kay iss say pehlay tum mun pher chukay ho to woh tumhen dard-naak azab dey ga.
ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے کہہ دینا کہ : عنقریب تمہیں ایسے لوگوں کے پاس ( لڑنے کے لیے ) بلایا جائے گا جو بڑے سخت جنگجو ہوں گے ، کہ یا تو ان سے لڑتے رہو ، یا وہ اطاعت قبول کرلیں ۔ ( ١٤ ) اس وقت اگر تم ( جہاد کے اس حکم کی ) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم منہ موڑو گے جیسا کہ تم نے پہلے منہ موڑا تھا تو اللہ تمہیں دردناک عذاب دے گا ۔
ان پیچھے رہ گئے ہوئے گنواروں سے فرماؤ ( ف۳۷ ) عنقریب تم ایک سخت لڑائی والی قوم کی طرف بلائے جاؤ گے ( ف۳۸ ) کہ ان سے لڑو یا وہ مسلمان ہوجائیں ، پھر اگر تم فرمان مانو گے اللہ تمہیں اچھا ثواب دے گا ، اور اگر پھر گے جیسے پہلے پھر گئے تو تمھیں درد ناک عذاب دے گا ،
ان پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلائے جاؤ گے جو بڑے زور آور ہیں ۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہو جائیں گے30 ۔ اس وقت اگر تم نے حکم جہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا ، اور اگر تم پھر اسی طرح منہ موڑ گئے جس طرح پہلے موڑ چکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزا دے گا ۔
آپ دیہاتیوں میں سے پیچھے رہ جانے والوں سے فرما دیں کہ تم عنقریب ایک سخت جنگ جو قوم ( سے جہاد ) کی طرف بلائے جاؤ گے تم ان سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے ، سو اگر تم حکم مان لوگے تو اﷲ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا ۔ اور اگر تم رُوگردانی کرو گے جیسے تم نے پہلے رُوگردانی کی تھی تو وہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گا
سورة الْفَتْح حاشیہ نمبر :30 اصل الفاظ ہیں اَوْ یُسْلِمُوْنَ ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرلیں ۔
وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کونسی قوم ہے ؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیف ہے چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ایک مرفوع حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہ بہ تہ ڈھالوں کے ہوں گے حضرت سفیان فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی ہی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خود بخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کرلیں گے پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا ۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی ۔ پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بےرغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے ، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے ۔