Surah

Information

Surah ID #60
Total Verses 13 Ayaat
Rukus 2
Sajdah 0
Actual Order #91
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 60: Al-Mumtahina Ayat #4
قَدۡ كَانَتۡ لَـكُمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ فِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ‌ۚ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ اِلَّا قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَـكَ وَمَاۤ اَمۡلِكُ لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ ‌ؕ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّلۡنَا وَاِلَيۡكَ اَنَـبۡنَا وَاِلَيۡكَ الۡمَصِيۡرُ‏ ﴿4﴾
There has already been for you an excellent pattern in Abraham and those with him, when they said to their people, "Indeed, we are disassociated from you and from whatever you worship other than Allah . We have denied you, and there has appeared between us and you animosity and hatred forever until you believe in Allah alone" except for the saying of Abraham to his father, "I will surely ask forgiveness for you, but I have not [power to do] for you anything against Allah . Our Lord, upon You we have relied, and to You we have returned, and to You is the destination.
۔ ( مسلمانو! ) تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے ( عقائد کے ) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں ۔ اے ہمارے پروردگار تجھی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔

More translations & tafseer

قد كانت لكم اسوة حسنة في ابرهيم و الذين معه اذ قالوا لقومهم انا برءؤا منكم و مما تعبدون من دون الله كفرنا بكم و بدا بيننا و بينكم العداوة و البغضاء ابدا حتى تؤمنوا بالله وحده الا قول ابرهيم لابيه لاستغفرن لك و ما املك لك من الله من شيء ربنا عليك توكلنا و اليك انبنا و اليك المصير
There has already been for you an excellent pattern in Abraham and those with him, when they said to their people, "Indeed, we are disassociated from you and from whatever you worship other than Allah . We have denied you, and there has appeared between us and you animosity and hatred forever until you believe in Allah alone" except for the saying of Abraham to his father, "I will surely ask forgiveness for you, but I have not [power to do] for you anything against Allah . Our Lord, upon You we have relied, and to You we have returned, and to You is the destination.
( musalmano! ) tumharay liye hazrat ibrahim mein aur unn kay sathiyon mein behtareen namoona hai jabkay unn sab ney apni qom say bar mala keh diya kay hum tum say aur jin jin ki tum Allah kay siwa ibadat kertay ho unn sab say bilkul bey zaar hain. Hum tumharay ( aqaeed kay ) munkir hain jab tak tum Allah ki wahadaniyat per eman na lao hum mein tum mein hamesha kay liye bughz-o-adawat zahir hogaee lekin ibrahim ki itni baat apney baap say hui thi kay mein tumharay liye istaghfaar zaroor keroon ga aur tumharay liye mujhay Allah kay samney kissi cheez ka ikhtiyar kuch bhi nahi. Aey humaray perwerdigar tujhi per hum ney bharosa kiya hai aur teri hi taraf rujoo kertay hain aur teri hi tarf lotna hai.
تمہارے لیے ا براہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو ، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہم تمہارے ( عقائد کے ) منکر ہیں ، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ ۔ البتہ ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ ضرور کہا تھا کہ : میں آپ کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا ضرور مانگوں گا ، اگرچہ اللہ کے سامنے میں آپ کو کوئی فائدہ پہنچانے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ ( ٢ ) اے ہمارے پروردگار آپ ہی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے ، اور آپ ہی کی طرف ہم رجوع ہوئے ہیں ، اور آپ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے ۔
بیشک تمہارے لیے اچھی پیروی تھی ( ف۱۱ ) ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں میں ( ف۱۲ ) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا ( ف۱۳ ) بیشک ہم بیزار ہیں تم سے اور ان سے جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو ، ہم تمہارے منکر ہوئے ( ف۱٤ ) اور ہم میں اور تم میں دشمنی اور عداوت ظاہر ہوگئی ہمیشہ کے لیے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں ضرور تیری مغفرت چاہوں گا ( ف۱۵ ) اور میں اللہ کے سامنے تیرے کسی نفع کا مالک نہیں ( ف۱٦ ) اے ہمارے رب ہم نے تجھی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع لائے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے ( ف۱۷ )
تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ، ہو قطعی بیزار ہیں ، ہم نے تم سے کفر کیا 6 اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت ہوگئی اور بیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ ، مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا ( اس سے مستثنی سے ) کہ ” میں آپ کے لئے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا ، اور اللہ سے آپ کےلئے کچھ حاصل کر لینا میرے بس میں نہیں ہے 7 ۔ ” ( اور ابراہیم ) و اصحاب ابراہیم کی دعا یہ تھی کہ ) ” اے ہمارے رب ” تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے ۔
بیشک تمہارے لئے ابراہیم ( علیہ السلام ) میں اور اُن کے ساتھیوں میں بہترین نمونۂ ( اقتداء ) ہے ، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: ہم تم سے اور اُن بتوں سے جن کی تم اللہ کے سوا پوجا کرتے ہو کلیتہً بیزار ( اور لاتعلق ) ہیں ، ہم نے تم سب کا کھلا انکار کیا ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور نفرت و عناد ہمیشہ کے لئے ظاہر ہوچکا ، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ ، مگر ابراہیم ( علیہ السلام ) کا اپنے ( پرورش کرنے والے ) باپ سے یہ کہنا کہ میں تمہارے لئے ضرور بخشش طلب کروں گا ، ( فقط پہلے کا کیا ہوا ایک وعدہ تھا جو انہوں نے پورا کر دیا اور ساتھ یوں جتا بھی دیا ) اور یہ کہ میں تمہارے لئے ( تمہارے کفر و شرک کے باعث ) اللہ کے حضور کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ ( پھر وہ یہ دعا کر کے قوم سے الگ ہوگئے: ) اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر ہی بھروسہ کیا اور ہم نے تیری طرف ہی رجوع کیا اور ( سب کو ) تیری ہی طرف لوٹنا ہے
سورة الْمُمْتَحِنَة حاشیہ نمبر :6 یعنی ہم تمہارے کافر ہیں ، نہ تمہیں حق پر مانتے ہیں نہ تمہارے دین کو ۔ اللہ پر ایمان کا لازمی تقاضا طاغوت سے کفر ہے ۔ فَمَنْ یَّکْفُرْ بِا لطَّاغُوْتِ وَیُوْمِنْ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الوُثْقیٰ لَا انْفِصَامَ لَھَا ۔ پس جو شخص طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے اس نے در حقیقت مضبوط سہارا تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں ہے ۔ ( البقرہ ، 256 ) سورة الْمُمْتَحِنَة حاشیہ نمبر :7 دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیم کی یہ بات تو قابل تقلید ہے کہ انہوں نے اپنی کافر و مشرک قوم سے صاف صاف بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کر دیا ، مگر ان کی یہ بات تقلید کے قابل نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کیا اور عملاً اس کے حق میں دعا کی ۔ اس لیے کہ کافروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اتنا تعلق بھی اہل ایمان کو نہ رکھنا چاہیے ۔ سورہ توبہ ( آیت 113 ) میں اللہ تعالیٰ کا صاف صاف ارشاد ہے : مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوآ اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَ لَوْ کَانُوْا اُولِیْ قُرْبیٰ ۔ نبی کا یہ کام نہیں ہے اور نہ ان لوگوں کو یہ زیبا ہے جو ایمان لائے ہیں کہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں ، خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ۔ پس کوئی مسلمان اس دلیل سے اپنے کافر عزیزوں کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کا مجاز نہیں ہے کہ یہ کام حضرت ابراہیم نے کیا تھا ۔ رہا سوال کہ خود حضرت ابراہیم نے یہ کام کیسے کیا ؟ اور کیا وہ اس پر قائم بھی رہے؟ اس کا جواب قرآن مجید میں ہم کو پوری تفصیل کے ساتھ ملتا ہے ۔ ان کے باپ نے جب ان کو گھر سے نکال دیا تو چلتے وقت انہوں نے کہا تھا سَلَامٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ ، آپ کو سلام ہے ، میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا ( مریم ، 147 ۔ اسی وعدے کی بنا پر انہوں نے دو مرتبہ اس کے حق میں دعا کی ۔ ایک دعا کا ذکر سورہ ابراہیم ( آیت 41 ) میں ہے : رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الحِسَابْ ۔ اے ہمارے پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب مومنوں کو اس روز معاف کر دیجیو جب حساب لیا جانا ہے ۔ اور دوسری دعا سورہ شعَراء ( آیت 86 ) میں ہے : وَاغْفِرْ لِاَبِیْ اِنَّہ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ میرے باپ کو معاف فرما دے کہ وہ گمراہوں میں سے تھا اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جب سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ لیکن بعد میں جب ان کو یہ احساس ہو گیا کہ اپنے جس باپ کی مغفرت کے لیے وہ دعا کر رہے ہیں وہ تو اللہ کا دشمن تھا ، تو انہوں نے اس سے تبری کی اور اس کے ساتھ ہمدردی و محبت کا یہ تعلق بھی توڑ لیا: وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَا اِیَّاہُ ، فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہ اَنَّہ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّأ مِنْہُ ، اِنَّ اَبْرَھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ o ( التوبہ 114 ) اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھا کہ ایک وعدہ تھا جو اس نے اپنے باپ سے کر لیا تھا ۔ پھر جب اس پر یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن تھا تو اس نے اس سے بیزاری کا اظہار کر دیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم ایک رقیق القلب اور نرم خو آدمی تھا ۔ ان آیات پر غور کرنے سے یہ اصولی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انبیاء کا صرف وہی عمل قابل تقلید ہے جس پر وہ آخر وقت تک قائم رہے ہوں ۔ رہے ان کے وہ اعمال جن کو انہوں نے بعد میں خود چھوڑ دیا ہو ، یا جن پر اللہ تعالیٰ نے انہیں قائم نہ رہنے دیا ہو ، یا جن کی ممانعت اللہ کی شریعت میں وارد ہو چکی ہو ، وہ قابل تقلید نہیں ہیں اور کوئی شخص اس حجت سے ان کے ایسے اعمال کی پیروی نہیں کر سکتا کہ یہ فلاں نبی کا عمل ہے ۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے جو آدمی ذہن میں کھٹک پیدا کر سکتا ہے ۔ آیت زیر بحث میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے جس قول کو قابل تقلید نمونہ ہونے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا ۔ اور دوسرا حصہ یہ کہ میرے بس میں کچھ نہیں ہے کہ اللہ سے آپ کو معافی دلوا دوں ۔ ان میں سے پہلی بات کا قابل تقلید نہ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے ، مگر دوسری بات میں کیا خرابی ہے کہ اسے بھی نمونہ قابل تقلید ہونے سے مستثنیٰ کر دیا گیا ؟ حالانکہ وہ بجائے خود حق بات ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کا یہ قول استثناء میں اس وجہ سے داخل ہوا ہے کہ جب کوئی شخص کسی سے ایک کام کا وعدہ کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ اس سے زیادہ تیرے لیے کچھ کرنا میرے بس میں نہیں ہے تو اس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر اس سے زیادہ کچھ کرنا اس کے بس میں ہوتا تو وہ شخص اس کی خاطر وہ بھی کرتا ۔ یہ بات اس آدمی کے ساتھ اس شخص کے ہمدردانہ تعلق کو اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر کرتی ہے ۔ اسی بنا پر حضرت ابراہیم کا یہ دوسرا قول بھی استثناء میں شامل کیے جانے کا مستحق تھا ، اگرچہ اس کا یہ مضمون بجائے خود برحق تھا کہ اللہ سے کسی کی مغفرت کروا دینا ایک نبی تک کے اختیار سے باہر ہے ۔ علامہ آلوسی نے بھی روح المعانی میں اس سوال کا یہی جواب دیا ہے ۔
عصبیت دین ایمان کا جزو لاینفک ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کفار سے موالات اور دوستی نہ کرنے کی ہدایت فرما کر ان کے سامنے اپنے خلیل اور ان کے اصحاب کا نمونہ پیش کر رہا ہے کہ انہوں نے صاف طور پر اپنے رشتہ کنبے اور قوم کے لوگوں سے برملا فرما دیا کہ ہم تم سے اور جنہیں تم پوجتے ہو ان سے بیزار بری الذمہ اور الگ تھلگ ہیں ، ہم تمہارے دین اور طریقے سے متنفر ہیں ، جب تک تم اسی طریقے اور اسی مذہب پر ہو تم ہمیں اپنا دشمن سمجھوناممکن ہے کہ برادری کی وجہ سے ہم تمہارے اس کفر کے باوجود تم سے بھائی چارہ اور دوستانہ تعلقات رکھیں ، ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تم اللہ وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لے آؤ اس کی توحید کو مان لو اور اسی ایک عی ابدت شروع کر دو اور جن جن کو تم نے اللہ کا شریک اور ساجھی ٹھہرا رکھا ہے اور جن جن کی پوجا پاٹ میں مشغول ہو ان سب کو ترک کر دو اپنی اس روش کفر اور طریق شرک سے ہٹ جاؤ تم پھر بیشک ہمارے بھائی ہو ہمارے عزیز ہو ورنہ ہم میں تم میں کوئی اتحاد و اتفاق نہیں ہم تم سے اور تم ہم سے علیحدہ ہو ، ہاں یہ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے جو استغفار کا وعدہ کیا تھا اور پھر اسے پورا کیا اس میں ان کی اقتداء نہیں ، اس لئے کہ یہ استغفار اس وقت تک رہا جس وقت تک کہ اپنے والد کا دشمن اللہ ہونا ان پر وضاحت کے ساتھ ظاہر نہ ہوا تھا جب انہیں یقینی طور پر اس کی اللہ سے دشمنی کھل گئی تو اس سے صاف بیزاری ظاہر کر دی ، بعض مومن اپنے مشرک ماں باپ کے لئے دعاء و استغفار کرتے تھے اور سند میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے لئے دعا مانگنا پیش کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فرمان ( ترجمہ ) پوری دو آیتوں تک نازل فرمایا اور یہاں بھی اسوہ ابراہیمی میں سے اس کا استثناء کر لیا کہ اس بات میں ان کی پیروی تمہارے لئے ممنوع ہے اور حضرت ابراہیم کے اس استغفار کی تفصیل بھی کر دی اور اس کا خاص سبب اور خاص وقت بھی بیان فرما دیا ، حضرت ابن عباس مجاہد قتادہ مقاتل بن حیان صحاک وغیرہ نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ قوم سے برات کر کے اب اللہ کی بار گاہ میں آتے ہیں اور جناب باری میں عاجزی اور انکساری سے عرض کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ تمام کاموں میں ہمارا بھروسہ اور اعتماد تیری ہی پاک ذات پر ہے ہم اپنے تمام کام تجھے سونپتے ہیں تیری طرف رجوع و رغبت کرتے ہیں ، دار آخرت میں بھی ہمیں تیری ہی جانب لوٹنا ہے ۔ پھر کہتے ہیں الٰہی تو ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا ، یعنی ایسا نہ ہو کہ یہ ہم پر غالب آ کر ہمیں مصیبت میں مبتلا کر دیں ، اسیط رح یہ بھی نہ ہو کہ تیری طرف سے ہم پر کوئی عتاب و عذاب نازل ہو اور وہ ان کے اور بہکنے کا سبب بنے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو اللہ انہیں عذاب کیوں کرتا ؟ اگر یہ کسی میدان میں جیت گئے تو بھی ان کے لئے یہ فتنہ کا سبب ہو گا وہ سمجھیں گے کہ ہمیں اس لئے غالب آئے کہ ہم ہی حق پر ہیں ، اسیطرح اگر یہ ہم پر غالب آ گئے تو ایسا نہ ہو کہ ہمیں تکلیفیں پہنچا پہنچا کر تیرے دین سے برگشتہ کر دیں ۔ پھر دعا مانگتے ہیں کہ الٰہی ہمارے گناہوں کو بھی بخش دے ، ہماری پردہ پوشی کر اور ہمیں معاف فرما ، تو عزیز ہے تیری جناب میں پناہ لینے والا نامراد نہیں پھرتا تیرے در پر دستک دینے والا خالی ہاتھ نہیں جاتا ، تو اپنی شریعت کے تقرر میں اپنے اقوال و افعال میں اور قضا و قدر کے مقدر کرنے میں حکمتوں والا ہے ، تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ۔ پھر بہ طور تاکید کے وہی پہلی بات دوہرائی جاتی ہے کہ ان میں تمہارے لئے نیک نمونہ ہے جو بھی اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے آنے کی حقانیت پر ایمان رکھتا ہو اسے ان کی اقتداء میں آگے بڑھ کر قدم رکھنا چاہئے اور جو احکام اللہ سے روگردانی کرے وہ جان لے کہ اللہ اس سے بےپرواہ ہے وہ لائق حمد و ثناء ہے مخلوق اس خالق کی تعریف میں مشغول ہے ، جیسے اور جگہ ہے ( ترجمہ ) اگر تم اور تمام روئے زمین کے لوگ کفر پر اور اللہ کے نہ ماننے پر اتر آئیں تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ سب سے غنی سب سے بےنیاز اور سب سے بےپرواہ ہے اور وہ تعریف کیا گیا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں غنی اسے کہا جاتا ہے جو اپنی غنا میں کامل ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر طرح سے بےنیاز اور بالکل بےپرواہ ہے کسی اور کی ذات ایسی نہیں ، اس کا کوئی ہمسر نہیں اس کے مثل کوئی اور نہیں وہ پاک ہے اکیلا ہے سب پر حاکم سب پر غالب سب کا بادشاہ ہے ، حمید ہے یعنی مخلوق اسے سراہ رہی ہے ، اپنے جمیع اقوال میں تمام افعال میں وہ ستائشوں اور تعریفوں والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سوا کوئی پالنے والا نہیں ، رب وہی ہے معبود وہی ہے ۔