Surah

Information

Surah ID #64
Total Verses 18 Ayaat
Rukus 2
Sajdah 0
Actual Order #108
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 64: At-Taghabun Ayat #6
ذٰ لِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتۡ تَّاۡتِيۡهِمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ يَّهۡدُوۡنَـنَا فَكَفَرُوۡا وَتَوَلَّوْا‌ وَّاسۡتَغۡنَى اللّٰهُ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ‏ ﴿6﴾
That is because their messengers used to come to them with clear evidences, but they said, "Shall human beings guide us?" and disbelieved and turned away. And Allah dispensed [with them]; and Allah is Free of need and Praiseworthy.
یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا ؟ پس انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ نے بھی بے نیازی کی اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز سب خوبیوں والا ۔

More translations & tafseer

ذلك بانه كانت تاتيهم رسلهم بالبينت فقالوا ابشر يهدوننا فكفروا و تولوا و استغنى الله و الله غني حميد
That is because their messengers used to come to them with clear evidences, but they said, "Shall human beings guide us?" and disbelieved and turned away. And Allah dispensed [with them]; and Allah is Free of need and Praiseworthy.
Yeh iss liey kay unn kay pass unn kay rasool wazeh dalaeel ley ker aaye to unhon ney keh diya kay kiya insan humari rehnumaee keray ga? Pus inkar ker diya aur mun pher liya aur Allah ney bhi bey niazi ki aur Allah to hi boht bey niaz sab khoobiyon wala.
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر روشن دلائل لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ : کیا ( ہم جیسے ) انسان ہیں جو ہمیں ہدایت دیں گے؟ غرض انہوں نے کفر اختیار کیا اور منہ موڑا ، اور اللہ نے بھی بے نیازی برتی ، اور اللہ بالکل بے نیاز ہے بذات خود قابل تعریف ۔
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے ( ف۱۰ ) تو بولے ، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے ( ف۱۱ ) تو کافر ہوئے ( ف۱۲ ) اور پھر گئے ( ف۱۳ ) اور اللہ نے بےنیازی کو کام فرمایا ، اور اللہ بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا ،
اس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے 11 ، مگر انہوں نے کہا کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ 12 اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا ، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود13 ۔
یہ اس لئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول واضح نشانیاں لے کر آتے تھے تو وہ کہتے تھے: کیا ( ہماری ہی مثل اور ہم جنس ) بشر٭ ہمیں ہدایت کریں گے؟ سو وہ کافر ہوگئے اور انہوں نے ( حق سے ) رُوگردانی کی اور اللہ نے بھی ( اُن کی ) کچھ پرواہ نہ کی ، اور اللہ بے نیاز ہے لائقِ حمد و ثنا ہے
سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :11 اصل میں لفظ بینات استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ بین عربی زبان میں ایسی چیز کو کہتے ہیں جو بالکل ظاہر اور واضح ہو ، انبیاء علیہم السلام کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ بینات لے کر آتے رہے ، یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک تو وہ ایسی صریح علامات اور نشانیاں لے کر آتے تھے جو ان کے مامور من اللہ ہونے کی کھلی کھلی شہادت دیتی تھیں ۔ دوسرے ، وہ جو بات بھی پیش کرتے تھے نہایت معقول اور روشن دلیلوں کے ساتھ پیش کرتے تھے ۔ تیسرے ، ان کی تعلیم میں کوئی ابہام نہ تھا ، بلکہ وہ صاف صاف بتاتے تھے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ، جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ، کس راہ پر انسان کو چلنا چاہیے اور کس راہ پر نہ چلنا چاہیے ۔ سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :12 یہ تھی ان کی تباہی کی اولین اور بنیادی وجہ ۔ نوع انسانی کو دنیا میں صحیح راہ عمل اس کے بغیر معلوم نہیں ہو سکتی تھی کہ اس کا خالق اسے صحیح علم دے ، اور خالق کی طرف سے علم دیئے جانے کی عملی صورت اس کے سوا کچھ نہ ہو سکتی تھی کہ وہ انسانوں ہی میں سے بعض افراد کو علم عطا کر کے دوسروں تک اسے پہنچانے کی خدمت سپرد کرے ۔ اس غرض کے لیے اس نے انبیاء کو بینات کے ساتھ بھیجا تاکہ لوگوں کے لیے ان کے بر حق ہونے میں شک کرنے کی کوئی معقول وجہ نہ رہے ۔ مگر انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کر دیا کہ بشر خدا کا رسول ہو سکتا ہے ۔ اس کے بعد ان کے لیے ہدایت پانے کی کوئی صورت باقی نہ رہی ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، سورہ یٰس ، حاشیہ 11 ) ۔ اس معاملہ میں گمراہ انسانوں کی جہالت و نادانی کا یہ عجیب کرشمہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ بشر کی رہنمائی قبول کرنے میں تو انہوں نے کبھی تامل نہیں کیا ہے ، حتیٰ کہ ان ہی کی رہنمائی میں لکڑی اور پتھر کے بتوں تک کو معبود بنایا ، خود انسانوں کو خدا اور خدا کا اوتار اور خدا کا بیٹا تک مان لیا ، اور گمراہ کن لیڈروں کی اندھی پیروی میں ایسے ایسے عجیب مسلک اختیار کر لیے جنہوں نے انسانی تہذیب و تمدن اور اخلاق کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ۔ مگر جب خدا کے رسول ان کے پاس حق لے کر آئے اور انہوں نے ہر ذاتی غرض سے بالا تر ہو کر بے لاگ سچائی ان کے سامنے پیش کی تو انہوں نے کہا کیا اب بشر ہمیں ہدایت دیں گے ؟ اس کے معنی یہ تھے کہ نشر اگر گمراہ کرے تو سر آنکھوں پر ، لیکن اگر وہ راہ راست دکھاتا ہے تو اس کی رہنمائی قابل قبول نہیں ہے ۔ سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :13 یعنی جب انہوں نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے استغناء برتا تو پھر اللہ کو بھی اس کی کچھ پروا نہ رہی کہ وہ کس گڑھے میں جا کر گرتے ہیں ۔ اللہ کی کوئی غرض تو ان سے اٹکی ہوئی نہ تھی کہ وہ اسے خدا مانیں گے تو وہ خدا رہے گا ورنہ خدائی کا ٹکٹ اس سے چھن جائے گا ۔ وہ نہ ان کی عبادت کا محتاج تھا ، نہ ان کی حمد و ثناء کا ۔ وہ تو ان کی اپنی بھلائی کے لیے انہیں راہ راست دکھانا چاہتا تھا مگر جب وہ اس سے منہ پھیر گئے تو اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا ۔ پھر نہ ان کو ہدایت دی ، نہ ان کی حفاظت اپنے ذمہ لی ، نہ ان کو مہالک میں پڑنے سے بچایا اور نہ انہیں اپنے اوپر تباہی لانے سے روکا ، کیونکہ وہ خود اس کی ہدایت اور ولایت کے طالب نہ تھے ۔