Surah

Information

Surah ID #66
Total Verses 12 Ayaat
Rukus 2
Sajdah 0
Actual Order #107
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD)
Surah 66: At-Tahrim Ayat #3
وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏ ﴿3﴾
And [remember] when the Prophet confided to one of his wives a statement; and when she informed [another] of it and Allah showed it to him, he made known part of it and ignored a part. And when he informed her about it, she said, "Who told you this?" He said, "I was informed by the Knowing, the Acquainted."
اور یاد جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاہ کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے ۔

More translations & tafseer

و اذ اسر النبي الى بعض ازواجه حديثا فلما نبات به و اظهره الله عليه عرف بعضه و اعرض عن بعض فلما نباها به قالت من انباك هذا قال نباني العليم الخبير
And [remember] when the Prophet confided to one of his wives a statement; and when she informed [another] of it and Allah showed it to him, he made known part of it and ignored a part. And when he informed her about it, she said, "Who told you this?" He said, "I was informed by the Knowing, the Acquainted."
Aur yaad ker jab nabi ney apni baaz aurton say aik posheeda baat kahi pus jab uss ney uss baat ki khabar ker di aur Allah ney apney nabi ko iss per aagah ker diya to nabi ney thori si baat to bata di aur thori si taal gaye phir jab nabi ney apni biwi ko yeh baat bataee to woh kehnay lagi iss ki khabar aap ko kiss ney di. Kaha sab jannay walay poori khabar rakhney walay Allah ney mujhay yeh batlaya hai.
اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی ۔ ( ٣ ) پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی ، ( ٤ ) اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے ۔ ( ٥ ) پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ : آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟ نبی نے کہا کہ : مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا ، بہت باخبر ہے ۔
اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی ( ف٤ ) سے ایک راز کی بات فرمائی ( ف۵ ) پھر جب وہ ( ف٦ ) اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی ( ف۷ ) پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی ( ف۸ ) حضور کو کس نے بتایا ، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا ( ف۹ )
﴿اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ ﴾ نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی ۔ پھر جب اس بیوی نے ﴿کسی اور پر﴾ وہ راز ظاہر کر دیا ، اور اللہ نے نبی کو اس ﴿افشائے راز﴾ کی اطلاع دے دی ، تو نبی نے اس پر کسی حد تک ﴿اس بیوی کو﴾ خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا ۔ پھر جب نبی نے اسے ﴿افشائے راز کی ﴾ یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ نبی نے کہا ” مجھے اس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے6 ۔ ”
اور جب نبئ ( مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنی ایک زوجہ سے ایک رازدارانہ بات ارشاد فرمائی ، پھر جب وہ اُس ( بات ) کا ذکر کر بیٹھیں اور اللہ نے نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر اسے ظاہر فرما دیا تو نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے انہیں اس کا کچھ حصہ جِتا دیا اور کچھ حصہ ( بتانے ) سے چشم پوشی فرمائی ، پھر جب نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے انہیں اِس کی خبر دے دی ( کہ آپ راز اِفشاء کر بیٹھی ہیں ) تو وہ بولیں: آپ کو یہ کس نے بتا دیا ہے؟ نبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا کہ مجھے بڑے علم والے بڑی آگاہی والے ( رب ) نے بتا دیا ہے
سورة التَّحْرِيْم حاشیہ نمبر :6 مختلف روایات میں مختلف باتوں کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں بات تھی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی اور ان بیوی نے ایک دوسری بیوی سے اس کا ذکر کر دیا ۔ لیکن ہمارے نزدیک اول تو اس کا کھوج لگانا صحیح نہیں ہے ، کیونکہ راز کے افشا کرنے پر ہی تو اللہ تعالی یہاں کی بیوی کو ٹوک رہا ہے ، پھر ہمارے لیے کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی ٹٹول کریں اور اسے کھولنے کی فکر میں لگ جائیں ۔ دوسرے جس مقصد کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے لحاظ سے یہ سوال سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ راز کی بات تھی کیا ۔ مقصود کلام سے اس کا کوئی تعلق ہوتا تو اللہ تعالی اسے خود بیان فرما دیتا ۔ اصل غرض جس کے لیے اس معاملے کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے ، ازواج مطہرات میں سے ایک کو اس غلطی پر ٹوکنا ہے کہ ان کے عظیم المرتبہ شوہر نے جو بات راز میں ان سے فرمائی تھی اسے انہوں نے راز نہ رکھا اور اس کا افشا کر دیا ۔ یہ محض ایک نجی معاملہ ہوتا ، جیسا دنیا کے عام میاں اور بیوی کے درمیان ہوا کرتا ہے ، تو اس کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اللہ تعالی براہ راست وحی کے ذریعہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر کر دیتا اور پھر محض خبر دینے ہی پر اکتفا نہ کرتا بلکہ اسے اپنی کتاب میں بھی درج کر دیتا جسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ساری دنیا کو پڑھنا ہے ۔ لیکن اسے یہ اہمیت جس وجہ سے دی گئی وہ یہ تھی کہ وہ بیوی کسی معمولی شوہر کی نہ تھیں بلکہ اس عظیم ہستی کی بیوی تھیں جسے اللہ تعالی نے انتہائی اہم ذمہ داری کے منصب پر مامور فرمایا تھا ، جسے ہر وقت کفار و مشرکین اور منافقین کے ساتھ ایک مسلسل جہاد سے سابقہ در پیش تھا جس کی قیادت میں کفر کی جگہ ا سلام کا نظام برپا کرنے کے لیے ایک زبردست جدوجہد ہو رہی تھی ۔ ایسی ہستی کے گھر میں بے شمار ایسی باتیں ہو سکتی تھیں جو اگر راز نہ رہتیں اور قبل از وقت ظاہر ہو جاتیں تو اس کار عظیم کو نقصان پہنچ سکتا تھا جو وہ ہستی انجام دے رہی تھی ۔ اس لیے جب اس گھر کی ایک خاتوں سے پہلی مرتبہ یہ کمزوری صادر ہوئی کہ اس نے ایک ا یسی بات کو جو راز میں اس سے کہی گئی تھی کسی اور پر ظاہر کر دیا ( اگرچہ وہ کوئی غیر نہ تھا بلکہ اپنے ہی گھر کا ا یک فرد تھا ) تو اس پر فوراً ٹوک دیا گیا ، اور در پردہ نہیں بلکہ قرآن مجید میں برملا ٹوکا گیا تاکہ نہ صرف ازواج مطہرات کو ، بلکہ مسلم معاشرے کے تمام ذمہ دار لوگوں کی بیویوں کو رازوں کی حفاظت کی تربیت دی جائے ۔ آیت میں اس سوال کو قطعی نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ جس راز کی بات کو ا فشا کیا گیا تھا وہ کوئی خاص اہمیت رکھتی تھی یا نہیں ، اور اس کے افشا سے کسی نقصان کا خطرہ تھا یا نہیں ۔ گرفت بجائے خود اس امر پر کی گئی ہے کہ راز کی بات کو دوسرے سے بیان کر دیا گیا ۔ اس لیے کہ کسی ذمہ دار ہستی کے گھر والوں میں اگر یہ کمزوری موجود ہو کہ وہ رازوں کی حفاظت میں تساہل برتیں تو آج ایک غیر اہم راز افشا ہوا ہے ، کل کوئی اہم راز افشا ہو سکتا ہے ۔ جس شخص کا منصب معاشرے میں جتنا زیادہ ذمہ دارانہ ہو گا اتنے ہی زیادہ اہم اور نازک معاملات اس کے گھر والوں کے علم میں آئیں گے ۔ ان کے ذریعہ سے راز کی باتیں دوسروں تک پہنچ جائیں تو کسی وقت بھی یہ کمزوری بڑے خطرے کی موجب بن سکتی ہے ۔