Surah

Information

Surah # 67 | Verses: 30 | Ruku: 2 | Sajdah: 0 | Chronological # 77 | Classification: Makkan
Revelation location & period: Late Makkah phase (620 - 622 AD)
هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِىۡ مَنَاكِبِهَا وَكُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِهٖ‌ؕ وَاِلَيۡهِ النُّشُوۡرُ‏ ﴿15﴾
وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست و مطیع کر دیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ ( پیو ) اسی کی طرف ( تمہیں ) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے ۔
هو الذي جعل لكم الارض ذلولا فامشوا في مناكبها و كلوا من رزقه و اليه النشور
It is He who made the earth tame for you - so walk among its slopes and eat of His provision - and to Him is the resurrection.
Woh zaat jiss ney tumharay liye zamin ko past-o-mutee kerdia takay tum uss ki raahon mein chaltay phirtay raho aur Allah ki roziyan khao ( piyo ) ussi ki taraf ( tumhen ) ji ker uth khara hona hai.
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رام کردیا ہے ، لہذا تم اس کے مونڈھوں پر چلو پھرو ، اور اس کا رزق کھاؤ ، اور اسی کے پاس دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے ۔ ( ٣ )
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین رام ( تابع ) کر دی تو اس کے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ ( ف۲٤ ) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے ( ف۲۵ )
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے ، چلو اس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا 23 رزق ، اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے24 ۔
وُہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم و مسخر کر دیا ، سو تم اس کے راستوں میں چلو پھرو ، اور اُس کے ( دئیے ہوئے ) رِزق میں سے کھاؤ ، اور اُسی کی طرف ( مرنے کے بعد ) اُٹھ کر جانا ہے
سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :23 یعنی زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہو گیا ، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کرہ ایسا پرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوان نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بے حدو حساب سرو سامان موجود ہے ۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کر دینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، النمل ، حواشی 73 ۔ 74 ۔ 81 ۔ جلد چہارم ، یٰسین ، حواشی 29 ۔ 32 ۔ المومن ، حواشی 90 ۔ 91 ۔ الزخرف ، حاشیہ 7 ۔ الجاثیہ ، حاشیہ 7 ۔ جلد پنجم قٓ ، حاشیہ 18 ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :24 یعنی اس زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اس بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے ۔