Surah

Information

Surah ID #74
Total Verses 56 Ayaat
Rukus 2
Sajdah 0
Actual Order #4
Classification Makkan
Revelation Location & Period Early Makkah phase (610-618 AD)
Surah 74: Al-Muddathir Ayat #7
وَ لِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡؕ‏ ﴿7﴾
But for your Lord be patient.
اور اپنے رب کی راہ میں صبر کر ۔

More translations & tafseer

و لربك فاصبر
But for your Lord be patient.
Aur apney rab ki rah mein sabar ker
اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر سے کام لو ۔ ( ٤ )
اور اپنے رب کے لیے صبر کیے رہو ( ف۸ )
اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو7 ۔
اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں
سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :7 یعنی یہ کام جو تمہارے سپرد کیا جا رہا ہے ، بڑے جان جوکھوں کا کام ہے ۔ اس میں سخت مصائب اور مشکلات اور تکلیفوں سے تمہیں سابقہ پیش آئے گا ۔ تمہاری اپنی قوم تمہاری دشمن ہو جائے گی ۔ سارا عرب تمہارے خلاف صف آرا ہو جائے گا ۔ مگر جو کچھ بھی اس راہ میں پیش آئے اپنے رب کی خاطر اس پر صبر کرنا اور اپنے فرض کو پوری ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دینا ۔ اس سے باز رکھنے کے لیے خوف طمع ، لالچ ، دوستی ، دشمنی ، محبت ہر چیز تمہارے راستے میں حائل ہو گی ۔ ان سب کے مقابلے میں مضبوطی کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنا ۔ یہ تھیں وہ اولین ہدایات جو اللہ تعالی نے اپنے رسول کو اس وقت دی تھیں جب اس نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ اٹھ کر نبوت کے کام کا آغاز فرما دیں ۔ کوئی شخص اگر ان چھوٹے چھوٹے فقروں پر اور ان کے معانی پر غور کرے تو اس کا دل گواہی دے گا کہ ایک نبی کو نبوت کا کام شروع کرتے وقت اس سے بہتر کوئی ہدایات نہیں دی جا سکتی تھیں ۔ ان میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ آپ کو کام کیا کرنا ہے ، اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ اس کام کے لیے آپ کی زندگی اور آپ کے اخلاق اور معاملات کیسے ہونے چاہیں ، اور یہ تعلیم بھی دی دی گئی کہ یہ کام آپ کس نیت ، کس ذہنیت اور کس طرزِ فکر کے ساتھ انجام دیں ، اور اس بات سے بھی خبردار کر دیا گیا کہ اس کام میں آپ کو کن حالات سے سابقہ پیش آنا ہے اور ان کا مقابلہ آپ کو کس طرح کرنا ہو گا ۔ آج جو لوگ تعصب میں اندھے ہو کر یہ کہتے کہ معاذ اللہ صرع کے دوروں میں یہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہو جایا کرتا تھا وہ ذرا آنکھیں کھول کر ان فقروں کو دیکھیں اور خود سوچیں کہ یہ صرع کے کسی دورے میں نکلے ہوئے الفاظ ہیں یا ایک خدا کی ہدایات ہیں جو رسالت کے کام پر مامور کرتے ہوئے وہ اپنے بندے کو دے رہا ہے؟