سورة التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :1
سورج کے بے نور کر دیے جانے کے لیے یہ ایک بے نظیر استعارہ ہے ۔ عربی زبان میں تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں ۔ سر پر عمامہ باندھنے کے لیے تکویر العمامہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں کیونکہ عمامہ پھیلا ہوا ہوتا ہے اور پھر سر کے گرد اسے لپیٹا جاتا ہے ۔ اسی مناسبت سے اس روشنی کو جو سورج سے نکل کر سارے نظام شمسی میں پھیلتی عمامہ سے تشبیہ دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قیامت کے روز یہ پھیلا ہوا عمامہ سورج پر لپیٹ دیا جائے گا ، یعنی اس کی روشنی کا پھیلنا بند ہو جائے گا ۔