Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #35
وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِىَ نَفَقًا فِى الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِى السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ‌ ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰى فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿35﴾
And if their evasion is difficult for you, then if you are able to seek a tunnel into the earth or a stairway into the sky to bring them a sign, [then do so]. But if Allah had willed, He would have united them upon guidance. So never be of the ignorant.
اور اگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ لو اور پھر کوئی معجزہ لے آؤ توکرو اور اگر اللہ کو منظور ہوتاتو ان سب کو راہ راست پر جمع کر دیتا سو آپ نادانوں میں سے نہ ہو جایئے ۔

More translations & tafseer

و ان كان كبر عليك اعراضهم فان استطعت ان تبتغي نفقا في الارض او سلما في السماء فتاتيهم باية و لو شاء الله لجمعهم على الهدى فلا تكونن من الجهلين
And if their evasion is difficult for you, then if you are able to seek a tunnel into the earth or a stairway into the sky to bring them a sign, [then do so]. But if Allah had willed, He would have united them upon guidance. So never be of the ignorant.
Aur agar aap ko inn ka aeyraaz giran guzarta hai to agar aap ko yeh qudrat hai kay zamin mein koi surang ya aasman mein koi seerhi dhoond lo phir koi moajza ley aao to kero aur agar Allah ko manzoor hota to inn sab ko raah-e-raast per jama ker deta so aap nadanon mein say na ho jaiye.
اور اگر ان لوگوں کا منہ موڑے رہنا تمہیں بہت بھاری معلوم ہورہا ہے تو اگر تم زمین کے اندر ( جانے کے لیے ) کوئی سرنگ یا آسمان میں ( چڑھنے کے لیے ) کوئی سیڑھی ڈھونڈ سکتے ہو تو ان کے پاس ( ان کا منہ مانگا یہ ) معجزہ لے آؤ ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ لہذا تم نادانوں میں ہرگز شامل نہ ہونا ۔ ( ١٠ )
اور اگر ان کا منہ پھیرنا تم پر شاق گزرا ہے ( ف۷۸ ) تو اگر تم سے ہوسکے تو زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلو یا آسمان میں زینہ پھر ان کے لیے نشانی لے آؤ ( ف۷۹ ) اور اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر اکٹھا کردیتا تو اے سننے والے تو ہرگز نادان نہ بن ،
تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو ۔ 23 اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا ، لہٰذا نادان مت بنو ۔ 24
اور اگر آپ پر ان کی رُوگردانی شاق گزر رہی ہے ( اور آپ بہر صورت ان کے ایمان لانے کے خواہش مند ہیں ) تو اگر آپ سے ( یہ ) ہو سکے کہ زمین میں ( اترنے والی ) کوئی سرنگ یا آسمان میں ( چڑھنے والی ) کوئی سیڑھی تلاش کرلیں پھر ( انہیں دکھانے کے لیے ) ان کے پاس کوئی ( خاص ) نشانی لے آئیں ( وہ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے ) ، اور اگر اﷲ چاہتا تو ان کو ہدایت پر ضرور جمع فرما دیتا پس آپ ( اپنی رحمت و شفقت کے بے پایاں جوش کے باعث ان کی بدبختی سے ) بے خبر نہ ہوجائیں
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :23 نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے سمجھاتے مدتیں گزر گئی ہیں اور کسی طرح یہ راستی پر نہیں آتی تو بسا اوقات آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش کوئی نشانی خدا کی طرف سے ایسی ظاہر ہو جس سے ان لوگوں کا کفر ٹوٹے اور یہ میری صداقت تسلیم کرلیں ۔ آپ کی اسی خواہش کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ بے صبری سے کام نہ لو ۔ جس ڈھنگ اور جس ترتیب و تدریج سے ہم اس کام کو چلوا رہے ہیں اسی پر صبر کے ساتھ چلے جاؤ ۔ معجزوں سے کام لینا ہوتا تو کیا ہم خود نہ لے سکتے تھے؟ مگر ہم جانتے ہیں کہ جس فکری و اخلاقی انقلاب اور جس مدنیت صالحہ کی تعمیر کے کام پر تم مامور کیے گئے ہو اسے کامیابی کی منزل تک پہنچانے کا صحیح راستہ یہ نہیں ہے ۔ تاہم اگر لوگوں کے موجودہ جمود اور ان کے انکار کی سختی پر تم سے صبر نہیں ہوتا ، اور تمہیں گمان ہے کہ اس جمود کو توڑنے کے لیے کسی محسوس نشانی کا مشاہدہ کرانا ہی ضروری ہے ، تو خود زور لگاؤ اور تمہارا کچھ بس چلتا ہو تو زمین میں گھس کر یا آسمان پر چڑھ کر کوئی ایسا معجزہ لانے کی کوشش کرو جسے تم سمجھو کہ یہ بے یقینی کو یقین میں تبدیل کردینے کے لیے کافی ہوگا ۔ مگر ہم سے امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری یہ خواہش پوری کریں گے کیونکہ ہماری اسکیم میں اس تدبیر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :24 یعنی اگر صرف یہی بات مطلوب ہوتی کہ تمام انسان کسی نہ کسی طور پر راست رو بن جائیں تو نبی بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے اور مومنوں سے کفار کے مقابلہ میں جدوجہد کرانے اور دعوت حق کو تدریجی تحریک کی منزلوں سے گزروانے کی حاجت ہی کیا تھی ۔ یہ کام تو اللہ کے ایک ہی تخلیقی اشارہ سے انجام پا سکتا تھا ۔ لیکن اللہ اس کام کو اس طریقہ پر کرنا نہیں چاہتا ۔ اس کا منشاء تو یہ ہے کہ حق کو دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے ۔ پھر ان میں سے جو لوگ فکر صحیح سے کام لے کر حق کو پہچان لیں وہ اپنے آزادانہ اختیار سے اس پر ایمان لائیں ۔ اپنی سیرتوں کو اس کے سانچے میں ڈھال کر باطل پرستوں کے مقابلہ میں اپنا اخلاقی تفوق ثابت کریں ۔ انسانوں کے مجموعہ میں سے صالح عناصر کو اپنے طاقتور استدلال ، اپنے بلند نصب العین ، اپنے بہتر اصول زندگی اور اپنی پاکیزہ سیرت کی کشش سے اپنی طرف کھینچتے چلے جائیں ۔ اور باطل کے خلاف پیہم جدوجہد کر کے فطری ارتقاء کی راہ سے اقامت دین حق کی منزل تک پہنچیں ۔ اللہ اس کام میں ان کی رہنمائی کرے گا اور جس مرحلہ پر جیسی مدد اللہ سے پانے کا وہ اپنے آپ کو مستحق بنائیں گے وہ مدد بھی انہیں دیتا چلا جائے گا ۔ لیکن اگر کوئی یہ چاہے کہ اس فطری راستے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ محض اپنی قدرت قاہرہ کے زور سے افکار فاسدہ کو مٹا کر لوگوں میں فکر صالح پھیلا دے اور تمدن فاسد کو نیست و نابود کر کے مدنیت صالحہ تعمیر کر دے ، تو ایسا ہرگز نہ ہوگا کیونکہ یہ اللہ کی اس حکمت کے خلا ف ہے جس کے تحت اس نے انسان کو دنیا میں ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے ، اسے تصرف کے اختیارات دیے ہیں ، طاعت و عصیان کی آزادی بخشی ہے ، امتحان کی مہلت عطا کی ہے ، اور اس کی سعی کے مطابق جزا اور سزا دینے کے لیے فیصلہ کا ایک وقت مقرر کر دیا ہے ۔