Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #97
وَهُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِىۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ‌ؕ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿97﴾
And it is He who placed for you the stars that you may be guided by them through the darknesses of the land and sea. We have detailed the signs for a people who know.
اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں خشکی میں اور دریا میں راستہ معلوم کر سکو بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کھول کر بیان کر دیئے ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں ۔

More translations & tafseer

و هو الذي جعل لكم النجوم لتهتدوا بها في ظلمت البر و البحر قد فصلنا الايت لقوم يعلمون
And it is He who placed for you the stars that you may be guided by them through the darknesses of the land and sea. We have detailed the signs for a people who know.
Aur woh aisay hai jiss ney sitaron ko peda kiya takay tum unn kay zariye say andheron mein khushki mein aur darya mein bhi raasta maloom ker sako. Be-shak hum ney dalaeel khoob khol khol ker biyan ker diye hain unn logon kay liye jo khabar rakhtay hain.
اور اسی نے تمہارے لیے ستارے بنائے ہیں ، تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستے معلوم کرسکو ۔ ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کر کے کھول دی ہیں ( مگر ) ان لوگوں کے لیے جو علم سے کام لیں
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تارے بنائے کہ ان سے راہ پاؤ خشکی اور تری کے اندھیروں میں ، ہم نے نشانیاں مفصل بیان کردیں علم والوں کے لیے ،
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں ۔ 64
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو بنایا تاکہ تم ان کے ذریعے بیابانوں اور دریاؤں کی تاریکیوں میں راستے پاسکو ۔ بیشک ہم نے علم رکھنے والی قوم کے لئے ( اپنی ) نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :64 یعنی اس حقیقت کی نشانیاں کہ خدا صرف ایک ہے ، کوئی دوسرا نہ خدائی کی صفات رکھتا ہے ، نہ خدائی کے اختیارات میں حصہ دار ہے ، اور نہ خدائی کے حقوق میں سے کسی حق کا مستحق ہے ۔ مگر ان نشانیوں اور علامتوں سے حقیقت تک پہنچنا جاہلوں کے بس کی بات نہیں ، اس دولت سے بہرہ ور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو علمی طریق پر آثار کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔