Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #105
وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ وَلِيَقُوۡلُوۡا دَرَسۡتَ وَلِنُبَيِّنَهٗ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿105﴾
And thus do We diversify the verses so the disbelievers will say, "You have studied," and so We may make the Qur'an clear for a people who know.
اور ہم اس طور پر دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یہ یوں کہیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے اور تاکہ ہم اس کو دانشمندوں کے لئے خوب ظاہر کر دیں ۔

More translations & tafseer

و كذلك نصرف الايت و ليقولوا درست و لنبينه لقوم يعلمون
And thus do We diversify the verses so the disbelievers will say, "You have studied," and so We may make the Qur'an clear for a people who know.
Aur hum iss tor per dalaeel ko mukhtalif pehloo’on say biyan kertay hain takay yeh yun kahen kay aap ney kissi say parh liya hai aur takay hum iss ko danish mandon kay liye khoob zahir ker den.
اسی طرح ہم آیتیں مختلف طریقوں سے بار بار واضح کرتے ہیں ( تاکہ تم انہیں لوگوں تک پہنچا دو ) اور بالآخر یہ لوگ تو یوں کہیں کہ : تم نے کسی سے سیکھا ہے ( ٤٣ ) اور جو لوگ علم سے کام لیتے ہیں ان کے لیے ہم حق کو آشکار کردیں ۔
اور ہم اسی طرح آیتیں طرح طرح سے بیان کرتے ( ف۲۱٦ ) اور اس لیے کہ کافر بول اٹھیں کہ تم تو پڑھے ہو اور اس لیے کہ اسے علم والوں پر واضح کردیں ،
اس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو ، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں ۔ 70
اور ہم اسی طرح ( اپنی ) آیتوں کو بار بار ( انداز بدل کر ) بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ ( کافر ) بول اٹھیں کہ آپ نے ( تو کہیں سے ) پڑھ لیا ہے تاکہ ہم اس کو جاننے والے لوگوں کے لئے خوب واضح کردیں
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :70 یہ وہی بات ہے جو سورہ بقرہ رکوع ۳ میں فرما دی گئی ہے کہ مچھر اور مکڑی وغیرہ چیزوں کی تمثیلیں سن کر حق کے طالب تو اس صداقت کو پالیتے ہیں جو ان تمثیلوں کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے ، مگر جن پر انکار کا تعصب مسلط ہے وہ طنز سے کہتے ہیں کہ بھلا اللہ کے کلام میں ان حقیر چیزوں کے ذکر کا کیا کام ہو سکتا ہے ۔ اسی مضمون کو یہاں ایک دوسرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ کہنے کا مدعا یہ ہے کہ یہ کلام لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا ہے جس سے کھوٹے اور کھرے انسان ممیز ہو جاتے ہیں ۔ ایک طرح کے انسان وہ ہیں جو اس کلام کو سن کر یا پڑھ کر اس کے مقصد و مدعا پر غور کرتے ہیں اور جو حکمت و نصیحت کی باتیں اس میں فرمائی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے دوسری طرح کے انسانوں کا حال یہ ہے کہ اسے سننے اور پڑھنے کے بعد ان کا ذہن مغز کلام کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اس ٹٹول میں لگ جاتا ہے کہ آخر یہ امی انسان یہ مضامین لایا کہاں سے ہے ، اور چونکہ مخالفانہ تعصب پہلے سے ان کے دل پر قبضہ کیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے ایک خدا کی طرف سے نازل شدہ ہونے کے امکان کو چھوڑ کر باقی تمام ممکن التصور صورتیں وہ اپنے ذہن سے تجویز کر تے ہیں اور انہیں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا انھوں نے اس کتاب کے ماخذ کی تحقیق کرلی ہے ۔