Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #142
وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا‌ ؕ كُلُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّيۡطٰنِ‌ ؕ اِنَّهٗ لَـكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۙ‏ ﴿142﴾
And of the grazing livestock are carriers [of burdens] and those [too] small. Eat of what Allah has provided for you and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.
اور موایشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے ( پیدا ) کیے ہیں جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو بلا شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے ۔

More translations & tafseer

و من الانعام حمولة و فرشا كلوا مما رزقكم الله و لا تتبعوا خطوت الشيطن انه لكم عدو مبين
And of the grazing livestock are carriers [of burdens] and those [too] small. Eat of what Allah has provided for you and do not follow the footsteps of Satan. Indeed, he is to you a clear enemy.
Aur mawashi mein oonchay qad kay aur chotay qad kay ( peda kiye ) jo kuch Allah ney tum ko diya hai khao aur shetan kay qadam ba qadam mat chalo bila shak woh tumhara sareeh dushman hai.
اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کیے ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ( ٧٤ ) اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے ، اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ۔ یقین جانو ، وہ تمہارے لیے ایک کھلا دشمن ہے ۔
اور مویشی میں سے کچھ بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے ( ف۲۹۲ ) کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو ، بیشک وہ تمہارا صریح دشمن ہے ،
پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ 117 کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ 118
اور ( اس نے ) بار برداری کرنے والے ( بلند قامت ) چوپائے اور زمین پر ( ذبح کے لئے یا چھوٹے قد کے باعث ) بچھنے والے ( مویشی پیدا فرمائے ) ، تم اس ( رزق ) میں سے ( بھی بطریقِ ذبح ) کھایا کرو جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے اور شیطان کے راستوں پر نہ چلا کرو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :117 اصل میں لفظ فَرْش استعمال ہوا ہے ۔ جانوروں کو فرش کہنا یا تو اس رعایت سے ہے کہ وہ چھوٹے قد کے ہیں اور زمین سے لگے ہوئے چلتے ہیں ۔ یا اس رعایت سے کہ وہ ذبح کے لیے زمین پر لٹائے جاتے ہیں ، یا اس رعایت سے کہ ان کی کھالوں اور ان کے بالوں سے فرش بنائے جاتے ہیں ۔ سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :118 سلسلہ کلام پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ تین باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے ۔ ایک یہ کہ یہ باغ اور کھیت اور یہ جانور جو تم کو حاصل ہیں ، یہ سب اللہ کے بخشے ہوئے ہیں ، کسی دوسرے کا اس بخشش میں کوئی حصہ نہیں ہے ، اس لیے بخشش کے شکریہ میں بھی کسی کا کوئی حصہ نہیں ہو سکتا ۔ دوسرے یہ کہ جب یہ چیزیں اللہ کی بخشش ہیں تو ان کے استعمال میں اللہ ہی کے قانون کی پیروی ہونی چاہیے ۔ کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کے استعمال پر اپنی طرف سے حدود مقرر کر دے ۔ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ رسموں کی پابندی کرنا اور اللہ کے سوا کسی اور کے آگے شکر نعمت کی نذر پیش کرنا ہی حد سے گزرنا ہے اور یہی شیطان کی پیروی ہے ۔ تیسرے یہ کہ یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے کھانے پینے اور استعمال کرنے ہی کے لیے پیدا کی ہیں ، اس لیے پیدا نہیں کیں کہ انہیں خواہ مخواہ حرام کر لیا جائے ۔ اپنے اوہام اور قیاسات کی بنا پر جو پابندیاں لوگوں نے خدا کے رزق اور اس کی بخشی ہوئی چیزوں کے استعمال پر عائد کر لی ہیں وہ سب منشاء الہٰی کے خلاف ہیں ۔