Surah

Information

Surah ID #6
Total Verses 165 Ayaat
Rukus 20
Sajdah 0
Actual Order #55
Classification Madinan
Revelation Location & Period Madina phase (622 - 632 AD). Except 3, revealed at Arafat on Last Hajj
Surah 6: Al-An'am Ayat #144
وَمِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَيۡنِ وَمِنَ الۡبَقَرِ اثۡنَيۡنِ‌ ؕ قُلۡ ءٰٓالذَّكَرَيۡنِ حَرَّمَ اَمِ الۡاُنۡثَيَيۡنِ اَمَّا اشۡتَمَلَتۡ عَلَيۡهِ اَرۡحَامُ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ ؕ اَمۡ كُنۡتُمۡ شُهَدَآءَ اِذۡ وَصّٰٮكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا‌ ۚ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿144﴾
And of the camels, two and of the cattle, two. Say, "Is it the two males He has forbidden or the two females or that which the wombs of the two females contain? Or were you witnesses when Allah charged you with this? Then who is more unjust than one who invents a lie about Allah to mislead the people by [something] other than knowledge? Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people."
اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم آپ کہئے کہ کیا اللہ تعالٰی نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا اسکو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالٰی نے تم کو اس کا حکم دیا ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ تعالٰی پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے یقیناً اللہ تعالٰی ظالم لوگوں کو راستہ نہیں دکھلاتا ۔

More translations & tafseer

و من الابل اثنين و من البقر اثنين قل ءالذكرين حرم ام الانثيين اما اشتملت عليه ارحام الانثيين ام كنتم شهداء اذ وصىكم الله بهذا فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا ليضل الناس بغير علم ان الله لا يهدي القوم الظلمين
And of the camels, two and of the cattle, two. Say, "Is it the two males He has forbidden or the two females or that which the wombs of the two females contain? Or were you witnesses when Allah charged you with this? Then who is more unjust than one who invents a lie about Allah to mislead the people by [something] other than knowledge? Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people."
Aur oont mein do qisam aur gaye mein do qisam aap kahiye kay kiya Allah Taalaa ney inn dono narron ko haram kiya hai ya dono maada ko? Ya uss ko jiss ko dono maada pet mein liye huye hon? Kiya tum hazir thay jiss waqt Allah Taalaa ney tum ko iss ka hukum diya? To uss say ziyada kaun zalim hoga jo Allah Taalaa per bila daleel jhooti tohmat lagaye takay logon ko gumrah keray yaqeenan Allah Taalaa zalim logon ko raasta nahi dikhlata.
اور اسی طرح اونٹوں کی بھی دو صنفیں ( نر اور مادہ اللہ نے ) پیدا کی ہیں ، اور گائے کی بھی دو صنفیں ۔ ان سے کہو کہ : کیا دونوں نروں کو اللہ نے حرام کیا ہے ، یا دونوں مادہ کو؟ یا ہر اس بچے کو جو دونوں نسلوں کی مادہ کے پیٹ میں موجود ہو؟ کیا تم اس وقت خود حاضر تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا؟ ( اگر نہیں ، اور یقینا نہیں ) تو پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر اس لیے جھوٹ باندھے تاکہ کسی علمی بنیاد کے بغیر لوگوں کو گمراہ کرسکے؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ۔
اور ایک جوڑا اونٹ کا اور ایک جوڑا گائے کا ، تم فرماؤ کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جسے دونوں مادہ پیٹ میں لیے ہیں ( ف۲۹٤ ) کیا تم موجود تھے جب اللہ نے تمہیں یہ حکم دیا ( ف۲۹۵ ) تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو اپنی جہالت سے گمراہ کرے ، بیشک اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا ،
اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھو ، ان کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ ، یا وہ بچّے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟ 120 کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا ؟ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ عِلم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے ۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھاتا ۔ ؏ ١۷
اور دو ( نر و مادہ ) اونٹ سے اور دو ( نر و مادہ ) گائے سے ۔ ( آپ ان سے ) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ ( بچہ ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اﷲ نے تمہیں اس ( حرمت ) کا حکم دیا تھا؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے گمراہ کرتا پھرے ۔ بیشک اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا
سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :120 یہ سوال اس تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ ان پر خود اپنے ان توہمات کی غیر معقولیت واضح ہو جائے ۔ یہ بات کہ ایک ہی جانور کا نر حلال ہو اور مادہ حرام ، یا مادہ حلال ہو اور نر حرام ، یا جانور خود حلال ہو مگر اس کا بچہ حرام ، یہ صریحاً ایسی نامعقول بات ہے کہ عقل سلیم اسے ماننے سے انکار کرتی ہے اور کوئی ذی عقل انسان یہ تصور نہیں کر سکتا کہ خدا نے ایسی لغویات کا حکم دیا ہو گا ۔ پھر جس طریقہ سے قرآن نے اہل عرب کو ان کے ان توہمات کی غیر معقولیت سمجھانے کی کوشش کی ہے بعینہ اسی طریقہ پر دنیا کی ان دوسری قوموں کو بھی ان کے توہمات کی لغویات پر متنبہ کیا جاسکتا ہے جن کے اندر کھانے پینے کی چیزوں میں حرمت و حلت کی غیر معقول پابندیاں اور چھوت چھات کی قیود پائی جاتی ہیں ۔