Surah

Information

Surah ID #26
Total Verses 227 Ayaat
Rukus 11
Sajdah 0
Actual Order #47
Classification Makkan
Revelation Location & Period Middle Makkah phase (618 - 620 AD). Except 197 and 224-227, from Madina
Surah 26: Ash-Shu'ara Ayat #216
فَاِنۡ عَصَوۡكَ فَقُلۡ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ‌ۚ‏ ﴿216﴾
And if they disobey you, then say, "Indeed, I am disassociated from what you are doing."
اگر یہ لوگ تیری نافرمانی کریں تو تُو اعلان کر دے کہ میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم کر رہے ہو ۔

More translations & tafseer

فان عصوك فقل اني بريء مما تعملون
And if they disobey you, then say, "Indeed, I am disassociated from what you are doing."
Agar yeh log teri na farmani keren to tu elaan ker dey kay mein inn kamon say beyzaar hun jo tum ker rahey ho.
اور اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ : جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔
تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بےعلاقہ ہوں ،
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں ۔ 136
پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں تو آپ فرما دیجئے کہ میں ان اعمالِ ( بد ) سے بیزار ہوں جو تم انجام دے رہے ہو
سورة الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :136 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لا کر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت اور تواضع کا رویہ اختیار کرو ، اور جو تمہاری بات نہ مانیں ان سے اعلان برأت کر دو ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ارشاد صرف ان رشتہ داروں سے متعلق نہ ہو جنہیں متنبہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ، بلکہ سب کے لیے عام ہو ۔ یعنی جو بھی ایمان لا کر تمہارا اتباع کرے اس کے ساتھ تواضع برتو اور جو بھی تمہاری نافرمانی کرے اس کو خبردار کر دو کہ تیرے اعمال سے میں بری الذمّہ ہوں ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے ، مگر انہوں نے عملاً آپ کی پیروی اختیار نہ کی تھی ، بلکہ وہ بد ستور اپنی گمراہ سوسائٹی میں مل جل کر اسی طرح کی زندگی بس کر رہے تھے جیسی دوسرے کفار کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ماننے والوں کو ان اہل ایمان سے الگ قرار دیا جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت تسلیم کرنے کے بعد آپ کا اتباع بھی اختیار کر لیا تھا ۔ تواضع برتنے کا حکم صرف اسی مؤخر الذکر گروہ کے لیے تھا ۔ باقی رہے وہ لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری سے منہ موڑے ہوئے تھے ، جن میں آپ کی صداقت کو ماننے والے بھی شامل تھے اور آپ کا انکار کر دینے والے بھی ، ان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی کہ ان سے بے تعلقی کا اظہار کر دو اور صاف صاف کہہ دو کہ اپنے اعمال کا نتیجہ تم خود بھگتو گے ، تمہیں خبردار کر دینے کے بعد اب مجھ پر تمہارے کسی فعل کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔