Surah

Information

Surah ID #52
Total Verses 49 Ayaat
Rukus 2
Sajdah 0
Actual Order #76
Classification Makkan
Revelation Location & Period Late Makkah phase (620 - 622 AD)
Surah 52: At-Tur Ayat #37
اَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآٮِٕنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَؕ‏ ﴿37﴾
Or have they the depositories [containing the provision] of your Lord? Or are they the controllers [of them]?
یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ( ان خزانوں کے ) یہ دروغہ ہیں ۔

More translations & tafseer

ام عندهم خزاىن ربك ام هم المصيطرون
Or have they the depositories [containing the provision] of your Lord? Or are they the controllers [of them]?
ya kiya inkay pass teray rab kay khazaney hain?ya ( in khazanon kay ) yeh darogha hain.
کیا تمہارے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں ، یا وہ داروغہ بنے ہوئے ہیں؟ ( ٩ )
یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں ( ف٤٦ ) یا وہ کڑوڑے ( حاکمِ اعلیٰ ) ہیں ( ف٤۷ )
کیا تیرے رب کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں ؟ یا ان پر انہی کا حکم چلتا ہے 29 ۔
یا اُن کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ اُن پر نگران ( اور ) داروغے ہیں
سورة الطُّوْر حاشیہ نمبر :29 یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی کیوں رسول بنائے گئے ۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنائے اور کس کو نہ بنائے؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں ، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے ۔