Surah

Information

Surah ID #53
Total Verses 62 Ayaat
Rukus 3
Sajdah 1
Actual Order #23
Classification Makkan
Revelation Location & Period Early Makkah phase (610-618 AD). Except 32, from Madina
Surah 53: An-Najm Ayat #29
فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰى ۙ عَنۡ ذِكۡرِنَا وَلَمۡ يُرِدۡ اِلَّا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا ؕ‏ ﴿29﴾
So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.
تو آپ اس سے منہ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جن کا ارادہ بجز زندگانی دنیا کے اور کچھ نہ ہو ۔

More translations & tafseer

فاعرض عن من تولى عن ذكرنا و لم يرد الا الحيوة الدنيا
So turn away from whoever turns his back on Our message and desires not except the worldly life.
To app iss say mun mor len jo humari yaad say mun moray aur jinka iradah ba-juz zindagan-e-duniya kay aur kuch na ho.
لہذا ( اے پیغمبر ) تم ایسے آدمی کی فکر نہ کرو جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑ لیا ہے ، اور دنیوی زندگی کے سوا وہ کچھ اور چاہتا ہی نہیں ۔
تو تم اس سے منہ پھیر لو ، جو ہماری یاد سے پھرا ( ف۳۳ ) اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی ( ف۳٤ )
پس اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے 24 ، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے ، اسے اس کے حال پر چھوڑ دو 25 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 26
سو آپ اپنی توجّہ اس سے ہٹا لیں جو ہماری یاد سے رُوگردانی کرتا ہے اور سوائے دنیوی زندگی کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتا
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :24 ذکر کا لفظ یہاں کئی معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے ، محض نصیحت بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے ۔ سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :25 یعنی اس کے پیچھے نہ پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو ۔ کیونکہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو ، جو دنیا کے مادی فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو ، اور جس میں اصل مطلوب آخرت کی ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو ۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں ۔ سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :26 یہ جملہ معترضہ ہے جو سلسلہ کلام کو بیچ میں توڑ کر پچھلی بات کی تشریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔