جو ہماری نگاہوں کے سامنے ( ہماری حفاظت میں ) چلتی تھی ، ( یہ سب کچھ ) اس ( ایک ) شخص ( نوح علیہ السلام ) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا
سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :13
اصل الفاظ ہیں جَزَاءً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ، یعنی یہ سب کچھ اس شخص کی خاطر بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کا کفر کیا گیا تھا ۔ کفر اگر انکار کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ جس کی بات ماننے سے انکار کیا گیا تھا اور اگر اسے کفران نعمت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ جس کا وجود ایک نعمت تھا مگر اس کی ناقدری کی گئی تھی ۔