سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :20
مفسرین میں سے بعض نے لفظ ساق ( پنڈلی ) کو عام لغوی معنی میں لیا ہے اور اس کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ مرنے کے وقت جب ٹانگیں سوکھ کر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی ۔ اور بعض عربی محاورے کے مطابق اسے شدت اور سختی اور مصیبت کے معنی میں لیا ہے ، یعنی اس وقت دو مصیبتیں ایک ساتھ جمع ہو جائیں گی ۔ ایک دنیا اور اس کی ہر چیز سے جدا ہو جانے کی مصیبت اور دوسری عالم آخرت میں ایک مجرم کی حیثیت سے گرفتار ہو کر جانے کی مصیبت ، جس سے ہر کافر و منافق اور ہر فاسق و فاجر کو سابقہ پیش آئے گا ۔