Surah

Information

Surah ID #92
Total Verses 21 Ayaat
Rukus 1
Sajdah 0
Actual Order #9
Classification Makkan
Revelation Location & Period Early Makkah phase (610-618 AD)
Surah 92: Al-Lail Ayat #20
اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ رَبِّهِ الۡاَعۡلٰى‌ۚ‏ ﴿20﴾
But only seeking the countenance of his Lord, Most High.
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے ۔

More translations & tafseer

الا ابتغاء وجه ربه الاعلى
But only seeking the countenance of his Lord, Most High.
bulkay sirf apnay perwardigar buzruk-o-buland ki raza chahnay kay liey
البتہ وہ صرف اپنے اس پروردگار کی خوشنودی چاہتا ہے جس کی شان سب سے اونچی ہے ۔
( ۲۰ ) صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے ،
وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے10 ۔
مگر ( وہ ) صرف اپنے ربِ عظیم کی رضا جوئی کے لئے ( مال خرچ کر رہا ہے )
سورة الَّیْل حاشیہ نمبر :10 یہ اس پرہیزگار آدمی کے خلوص کو مزید توضیح ہے کہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف کرتا ہے ان کا کوئی احسان پہلے سے اس پر نہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ چکانے کے لیے ، یا آئندہ ان سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور ان کی دعوتیں کر رہا ، بلکہ وہ اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں کی مدد کر رہا ہے جن کا نہ پہلے اس پر کوئی احسان تھا ، نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتا ہے ۔ اس کی بہترین مثال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ہے کہ مکہ معظمہ میں جن بےکس غلاموں اور لونڈیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اس قصور میں جن کے مالک ان پر بے تحاشا ظلم توڑ رہے تھے ان کو خرید کر وہ آزاد کر دیتے تھے ۔ تاکہ وہ ان کے ظلم سے بچ جا ئیں ۔ ابن جریر اور ابن عساکر نے حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابو بکر کو اس طرح ان غریب غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی پر روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر ان کے والد نے ان سے کہا کہ بیٹا ، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کر رہے ہو ۔ اگر مضبوط جوانوں کی آزادی پر تم یہی روپیہ خرچ کرتے تو وہ تمہارے قوت بازو بنتے ۔ اس پر حضرت ابو بکر نے ان سے کہا ای ابہ انما ارید ما عند اللہ ، ابا جان ، میں تو وہ اجر چاہتا ہوں جو اللہ کے ہاں ہے ۔